پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے تیسری بڑی سرحدی چوکی کو آمدورفت کے لئے کھول دیا

پاکستان نے 4 سال قبل دہشت گرد تنظیم طالبان  کے خطرے اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے بند کی گئی غلام خان سرحدی چوکی کو دوبارہ سے کھول دیا

963294
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے تیسری بڑی سرحدی چوکی کو آمدورفت کے لئے کھول دیا

پاکستان نے 4 سال قبل دہشت گرد تنظیم طالبان  کے خطرے اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے بند کی گئی غلام خان سرحدی چوکی کو دوبارہ سے کھول دیا ہے۔

نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک سرکاری شخصیت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق علاقے کو طالبان سے صاف کرنے کے لئے شروع کئے گئے ضرب عضب آپریشن کے بعد سرحدی چوکی دوبارہ سے تجارتی آمدو رفت کے لئے موزوں حالت میں آ گئی ہے۔

سرکاری شخصیت کے مطابق ماضی میں غلام خان سرحدی چوکی سے 2.7  بلین ڈالر کی تجارت کی جاتی تھی لیکن سرحدی چوکی کے بند ہونے سے تجارتی حجم 1.4 بلین ڈالر تک گر گیا تھا۔

غلام خان سرحدی چوکی، وزیرستان میں واقع  ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑی ترین تیسری سرحدی چوکی  ہے جسے علاقے سے دہشت گردی کی صفائی کے لئے گذشتہ ماہ تجرباتی طور پر کھول دیا گیا  تھا۔

اس پیش رفت کو گذشتہ ماہ افغانستان میں دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آنا مرکز توجہ بنا ہے۔

مذکورہ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان تناو میں کمی، تعاون میں اضافے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے موضوعات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی فوج نے وزیر ستان میں طالبان کے خلاف سال 2014 میں وسیع پیمانے پر آپریشن کا آغاز کروایا تھا اور دوبارہ سے علاقے کا کنٹرول سنبھال  لیا تھا۔



متعللقہ خبریں