لندن میں مسلم لیگ نون کا اہم اجلاس، قبل از وقت انتخابات زیر غور نہیں: وزیراعظم حاقان عباسی

اتوار کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم حاقان عباسی نے کہا کہ اداروں کے درمیان ٹکراو کا تاثر صرف اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہی نظر آتا ہےورنہ تمام اداروں میں اہم آھنگی موجود ہے

836615
لندن میں مسلم لیگ  نون کا اہم اجلاس، قبل از وقت انتخابات زیر غور نہیں: وزیراعظم  حاقان عباسی

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے واضح کیاکہ قبل ازوقت انتخابات کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ   قومی اداروں کے درمیان کسی قسم کا ٹکراو  موجود نہیں ہے‘ سازشی نظریات پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی ملک میں اس قسم کی کوئی گنجائش موجود ہے۔

اتوار کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان ٹکراو کا تاثر صرف اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور فوجی قیادت امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن سے اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں ساتھ بیٹھے تھے اور ملک کے تمام ادارے قومی ترقی میں مجموعی طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ان کا نجی دورہ ہے اور اس پر قومی خزانہ سے کوئی پیسہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیر کے روز رات کو پاکستان واپس پہنچ جائیں گے۔ 

آج لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن پہنچے ،نوازشریف کی زیرصدارت آج اجلاس میں آئندہ انتخابات، پارٹی امور، نیب کیسزاورنوازشریف کی 3نومبر کو نیب عدالت میں پیشی کے حوالے سے صلاح مشورہ کیاجائیگا۔

 وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب حکومتی کارکردگی اورملک کی سیاسی صورتحال پرسابق وزیراعظم کوبریفنگ دینگے ۔حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں لندن میں ن لیگ کی قیادت کا مشاورتی عمل اہم ہے جس میں آئندہ کی حکمت عملی اور لائحہ عمل پر غور کیا جائیگا،اسی دوران سیاسی محاذ پر مفاہمت یا مزاحمت کا فیصلہ بھی کیا جائیگاجبکہ نواز شریف نئے حالات میں شہبازشریف کوپارٹی امور چلانے کی ذمہ داری بھی تفویض کر سکتے ہیں تاکہ وہ آئندہ انتخابات کے بارے میں حکمت عملی اور دیگر امور پر فیصلے کر سکیں۔

اجلاس میں وزیر خزانہ اسحق ڈار، وزیر خارجہ خواجہ آصف،نوازشریف کے بیٹے حسن اور حسین نوازبھی شریک ہو نگے جبکہ سپیکر سردار ایازصادق اوردیگر وزراکی بھی لندن روانگی متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی میں مفاہمتی سوچ بڑھتی جارہی ہے اوروزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،شہبازشریف اورچودھری نثار مفاہمت پرمتفق ہیں جبکہ دیگر سینئر قیادت بھی انکی ہم خیال ہے ،آج مشاورتی اجلاس میں پاکستان سے جانیوالی قیادت نوازشریف کو مفاہمت کی سیاست پر قائل کرنے کی کوشش کریگی تاہم حتمی فیصلہ سابق وزیراعظم ہی کرینگے۔

نوازشریف کی سعودی حکام کیساتھ خفیہ ملاقاتیں شریف خاندان کیلئے حوصلہ افزا ہیں جبکہ ترک صدر طیب ایردوان بھی اس سلسلہ میں خاموش کردار ادا کررہے ہی



متعللقہ خبریں