چشمہ امن آپریشن

مقصد امن
ہدف دہشت گردی

امریکہ پاکستان کے ساتھ یا بغیر جنوبی ایشیا پالیسی پر ضرور عمل درآمد کرے گا

پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور امریکہ اس سے زیادہ مطالبات نہیں کرسکتا

امریکہ پاکستان کے ساتھ یا بغیر جنوبی ایشیا پالیسی پر ضرور عمل درآمد کرے گا

امریکی وزیر خارجہ  نے یورپ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ  پر محیط اپنے   سات روزہ دورے کا جائزہ لیتے ہوئے  کہا  کہ یہ خطرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کے حوالے سے ہمیں حقائق کے تحت نمٹنا ہے، کیونکہ یہ واضح ہے  کہ جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی شرائط پر مبنی ہے۔

ریکس ٹلرسن نے بتایا کہ انہوں نے  پاکستان  کو اپنے دورے کے دوران واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور امریکہ اس سے زیادہ مطالبات نہیں کرتا تاہم امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان حالات کے مطابق  فیصلہ کرے۔

ان کا کہنا تھا  کہ بھارت کے ساتھ تنازع کو حل کرنے بھی پاکستان کو پیشکش کی گئی جو کہ نئی دہلی کو ناراض کر سکتی ہے، کیونکہ بھارت، پاکستان کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے کے لیے کسی ثالثی کی شمولیت کا خواہاں  نہیں ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران  انہوں نے ایک سوال کہ "کیا انہیں پاکستان کی جانب سے مزاحمت کا پیغام ملا ہے جس میں  دو ٹوک  کہا گیا ہے کہ  ’ہم مجبور نہیں ہوں گے‘ کے جواب میں کہا  کہ ان کی اور پاکستانی حکام کی ملاقات کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو یہ باور کرادیا ہے کہ امریکہ پاکستان  کے ساتھ یا پھر اس کے بغیر بھی جنوبی ایشیا میں اپنی نئی حکمت عملی لاگو کرے گا کیونکہ امریکہ کے لیے یہ حکمت عملی انتہائی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ٹیلرسن نے مزید کہا کہ ہم پاک امریکی تعلقات کو ایک اچھی نگاہ  سے  دیکھتے ہیں تاہم امریکہ کو خطے میں جائز کام اور خدشات ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے پاکستان کی مدد درکار ہے۔



متعللقہ خبریں