سندھ طاس معاہدہ: انڈیا پاکستان مذاکرات کا اسلام آباد میں آغاز

بھارت کے انڈس واٹر کمشنر کی قیادت میں بھارت کا دس رکنی وفد اجلاس میں شرکت کیلئے واہگہ کے راستے پہلے ہی لاہور پہنچ گیا ہے

سندھ طاس معاہدہ: انڈیا پاکستان مذاکرات کا اسلام آباد میں آغاز

پاکستان انڈیا انڈس واٹرکمیشن کے مابین دو روزہ مذاکرات پیر سے اسلام آباد میں شروع ہوگئے  ہیں۔

بھارت کے انڈس واٹر کمشنر کی قیادت میں بھارت کا دس رکنی وفد اجلاس میں شرکت کیلئے واہگہ کے راستے پہلے ہی لاہور پہنچ گیا ہے۔

20 اور 21 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ کریں گے ـ

مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے تین منصوبے زیر بحث آئیں گےـ  دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے متنازع منصوبوں میں مایار ڈیم، لوئر کلنائی ڈیم اور پاکل دل ڈیم شامل ہیں۔ انڈیا کے طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔

انڈس واٹر کمیشن کا اجلاس پاکستان اور بھارت میں ہر سال ایک ایک بار ہونا لازمی ہے، کمیشن دونوں ملکوں کے انڈس کمشنرز پرمشتمل ہے اور سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق تکنیکی امور پر تبادلہ خیال کرتا ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پندرہ ارب ڈالر لاگت کے پن بجلی منصوبوں کی تعمیرتیزکردی ہے اور وہ پاکستان کو پانی کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کررہا ہے۔ تاہم بھارت کی طرف سے دوروزہ مذاکرات کے ایجنڈے میں بھارت کی طرف سے متنازعہ ڈیموں کی تعمیر کا مسئلہ شامل نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے تین منصوبے زیر بحث آئیں گے، دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے متنازع منصوبوں میں مایار ڈیم، لوئر کلنائی ڈیم اور پاکل دل ڈیم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔



متعللقہ خبریں