چشمہ امن آپریشن

مقصد امن
ہدف دہشت گردی

بدھ سے پاکستان میں انیس سال بعد مردم شماری کا آغازہو رہا ہے

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مردم شماری کے انعقاد کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل نے کیا ہے

بدھ سے پاکستان میں انیس سال بعد مردم شماری کا آغازہو رہا ہے

پاکستان  بھر میں مردم شماری کا آغاز 19 سال بعد بدھ سے 2 مراحل میں    ہوگا۔

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مردم شماری کے انعقاد کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل نے کیا ہے ملک میں آخری بار 1998 میں ہونے والی مردم شماری میں بھی پاک فوج نے اپنا تعاون فراہم کیا تھا لیکن آج کے حالات ماضی کے حالات سے مختلف ہیں اس وقت ملک بھر میں مردم شماری ایک ساتھ ہوئی تھی اور اس مرتبہ اسے 2 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1998ء  میں  کرائی گئی   مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ 52 ہزار تھی جن میں مردوں کی تعداد 52 فیصد جبکہ خواتین 48 فیصد تھیں۔

پانچویں مردم شماری کے مطابق پاکستان میں فی مربع کلومیٹر 166 بستے تھے۔ شرح خواندگی تقریبا 44 فیصد اور معاشی طور پر متحرک آبادی 22.24 فیصد تھی۔

 پانچویں مردم شماری کے وقت ملک میں بیروزگاری کی شرح 19.68 فیصد تھی۔ معذور افراد کی تعداد 2.54 فیصد، کل آبادی میں پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 43 فیصد، پندرہ سے چونسٹھ سال تک کے افراد کی تعداد 53 فیصد اور معمر افراد کی تعداد ساڑھے تین فیصد تھی۔



متعللقہ خبریں