وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام بین الاقوامی سیرت النبیؐ کانفرنس

کانفرنس میں پیر امیر الحسنات نے کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مذہبی عقائد اور عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے، علماء متنازع تقاریر سے گریز کریں، مذہبی اکابرین کی تربیت کیلئے ورکشاپس کرائی جائیں

629303
وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام بین الاقوامی سیرت النبیؐ کانفرنس

وفاقی حکومت کی وزارت مذہبی امور کی جانب سے "قومی سیرت کانفرنس" کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف‘ صدر مذہبی امور ترکی ڈاکٹر مہمت گورمیز‘ نائب وزیر مذہبی امور مالدیپ علی وحید سمیت اراکین سینیٹ ‘قو می و صوبائی اسمبلی‘ وفاقی و صوبائی وزراء‘ علماء کرام و مشائخ عظام اور تمام مذاہب کے سکالرز  نے بھی شرکت کی۔

کانفرنس میں پیر امیر الحسنات نے کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مذہبی عقائد اور عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے، علماء متنازع تقاریر سے گریز کریں، مذہبی اکابرین کی تربیت کیلئے ورکشاپس کرائی جائیں، مدارس، سکولوں اور کالجز میں بین المذاہب ہم آہنگی کا درس نصاب میں شامل کیا جائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اقلیت کا لفظ امتیاز کا حامل ہے، اس کی بجائے متبادل لفظ تلاش کیا جائے، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیاپر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، ہر قسم کا نفرت انگیز مواد ضبط کیا جائے

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایک دوسرے کے مذہبی قائدین اورعبادت گاہوں کا احترام ملحوظ خاطر کھاجائے نیز مذہبی قائدین ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تحریروں سے احتراز کریں جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو‘ مذہبی تنازعات اور اختلافات کو باہمی مشوروں‘ افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے کے اصولوں کی روشنی میں طے کیا جائے‘ اعلامیہ میں کہا گیا کہ تمام مذہبی اکابرین کے لئے لازمی تربیتی پروگرام تشکیل دیئے جائیں جس کے ذریعے انہیں دیگر مذاہب کی بنیادی معلومات حاصل ہوں‘ اعلامیہ میں کہا گیا کہ تمام مذاہب کے اکابرین اور سکالرز کو مذہبی‘ معاشرتی اور ثقافتی ہم آہنگی کے لئے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں مثلاً مندروں‘ مدارس‘ مساجد‘ گرجا گھروں اور گوردواروں کے مسلسل دورے کرنے چاہئیں‘ اعلامیہ میں کہا گیا کہ مدارس سکول‘ کالج اور جامعات میں بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ذریعے پرامن معاشرے کے قیام کیلئے تمام مذاہب کی کتابوں سے ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جو بقائے باہمی کی دعوت دے اور حکومت کے ذریعے اسکی تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔
واضح رہے کہ دو روزہ بین الاقوامی سیرت النبیؐ کانفرنس کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ اور پرچار ہے۔



متعللقہ خبریں