جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز نے پاکستان کے ایجنڈے کو مصروف کیا ہوا ہے

بینرز  کو  خاصکر   کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہروں  سمیت    سرکاری عمارتوں   اور فوجی    علاقوں کی جانب جانے والی  شاہراہوں پر  آویزاں کیا گیا ہے جو کہ  باعث ِ توجہ ہے

528243
جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز نے پاکستان کے ایجنڈے کو مصروف کیا ہوا ہے

 

پاکستان میں  بری أفواج کے کمانڈر   جنرل     راحیل شریف     کے عہدے  کی مدت   میں  توسیع   کا معاملہ   ملکی ایجنڈے کو مصروف کیے ہوئے ہے۔

پنجاب کی غیر معروف سیاسی تنظیم کہ جس کا مرکزی  دفتر فیصل آباد میں ہے ،  ’موو آن پاکستان‘ نے ایک بار پھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے بینرز ملک کے 13 شہروں کی شاہراہوں پر آویزاں کردیئے ہیں، جن میں آرمی چیف سے مارشل لاء نافذ کرنے اور ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ان بینرز  کو  خاصکر   کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہروں  سمیت    سرکاری عمارتوں   اور فوجی    علاقوں کی جانب جانے والی  شاہراہوں پر  آویزاں کیا گیا ہے جو کہ  باعث ِ توجہ ہے۔

اس پیش رفت کے بعد ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کی   بحث   ہونے  لگی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات وزیراطلاعات پرویزرشید نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پر بات کرنے والے دوست احمق اور نادان ہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ابھی وقت ہے اس لیے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جس سے کمانڈ کے بارے میں شکوک وشبہات پید اہوں اور آپریشن ضرب عضب پر منفی اثر پڑے۔

دوسری جانب پاک فوج نے آرمی چیف کی حمایت میں لگائے جانے والے ان بینرز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آرمی چیف کی تصویر والے بینرز کا فوج یا اس سے منسلک کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

ایک ریٹائرڈ   لیفٹنٹ جنرل  طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ "راحیل شریف نے اس سے قبل    اپنی مدت فرائض  میں    توسیع کی درخواست نہ دینے کا  اعلان کیا تھا تا ہم   اب ایسا لگتا ہے کہ اس  فیصلے پر نظر ثانی کی گئی  ہے۔  لیکن میں  نہیں  سمجھتا کہ   وزیر اعظم  نواز شریف    توسیع  کے  حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔"



متعللقہ خبریں