پاکستان افغان طالبان پر کنٹرول نہیں رکھتا ہے: سرتاج عزیز

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پر پاکستان کا کچھ اثر ورسوخ ہے تاہم ان کے اوپر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں جب کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ افغان حکومت کو کرنا ہے

پاکستان افغان  طالبان پر کنٹرول نہیں رکھتا ہے: سرتاج عزیز

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پر پاکستان کا کچھ اثر ورسوخ ہے تاہم ان کے اوپر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں جب کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ افغان حکومت کو کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کام مذاکرات کے حوالے سے سہولت کار کا ہے، انہیں بحال کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے افغان حکومت نے پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم امریکا اور پاکستان افغان مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان افغان مصالحتی عمل کی پوری حمایت کرتے ہیں، اب افغان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بھی ایسا چاہتے ہیں یا نہیں۔
سرتاج عزیزنے کہا کہ دورہ امریکا میں پاکستان کی تشویش سب سے زیادہ ہندوستان سے متعلق تھی، امریکی حکام کو بتایا کہ پڑوسی ملک کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس حوالے سے ثبوت بھی فراہم کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہندوستانی مداخلت کے باوجود امریکا کی مودی حکومت کے ساتھ دفاعی تعاون پر تحفظات سے بھی واشنگٹن کوآگاہ کیا گیا۔
سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دنیامانتی ہے کہ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام مضبوط ہے، جوہری ہتھیار مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو بتادیا ہے کہ ملکی دفاع کیلئے کون سا ہتھیار بنانا ہے اور کون سا نہیں اس حوالے سے فیصلہ پاکستان خودکرے گا۔

 


ٹیگز:

متعللقہ خبریں