ہم غزہ میں فائر بندی کے لیے ہر ممکنہ تجویز پو غور کرنے کے لیے تیار ہیں، اسماعیل ہنیہ

ہنیہ نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں اسٹریٹجک افکار  فورم کے زیر اہتمام غزہ میں اسرائیل کی طرف سے چھیڑی گئی جنگ کے منظر ناموں پر  بحث ہونے والے سمپوزیم میں شرکت کی

2154832
ہم غزہ میں فائر بندی کے لیے ہر ممکنہ تجویز پو غور کرنے کے لیے تیار ہیں، اسماعیل ہنیہ

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ کو روکنے اور مزاحمت کے مطالبات کو پورا کرنے والے تمام اقدامات کے لیے تیار ہیں۔

ہنیہ نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں اسٹریٹجک افکار  فورم کے زیر اہتمام غزہ میں اسرائیل کی طرف سے چھیڑی گئی جنگ کے منظر ناموں پر  بحث ہونے والے سمپوزیم میں شرکت کی۔

حماس کے "حملوں کا مکمل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء، علاقے کی تعمیر نو، قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کے عوام  کو امداد کی فراہمی" جیسے مطالبات پائے جانے کی یا ددہانی کرانے والے ہنیہ نے کہا، " یہ  ہماری عوام، مزاحمتی قوتوں اور اُمت کے آزاد عوام کے مطالبات ہیں ۔ حماس ان مطالبات  پربات چیت کر رہی ہے۔ ہم جنگ بندی کے مذاکرات میں مزاحمتی قوتوں کے ان مطالبات کو پورا کرنے  والی ہر پیشکش کے لیے  تیار ہیں۔"

ہنیہ نے کہا کہ انہوں نے 6 مئی کو قطری اور مصری فریقین کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کی منظوری دی تھی، لیکن اسرائیل نے  جنگ بندی کی تجویز میں مزاحمتی قوتوں کے مطالبات کے نچوڑ  کو   متاثر کرنے والی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل کی مذاکراتی حکمت عملی بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر حماس پر اسرائیل کے نقطہ نظر کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر مبنی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے  ہنیہ نے کہا کہ اسرائیل نے ایک سیاسی جال بچھا دیا ہے جو کچھ شرائط عائد کرتا ہے، تاہم انہوں نے  اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

انہوں  نے مزید کہا کہ غزہ کے خلاف جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس میں نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ اور اس کے مغربی استعماری اتحادی بھی شریک ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کا عمل

تحریک حماس نے 6 مئی کو قطر اور مصری حکام کو جنگ بندی کے لیے ان کی پیشکش کو منظور کرنے کا پیغام دیا تھا ، لیکن اسرائیل نے"اپنی شرائط پوری نہ ہونے" کے جواز میں  اس پیشکش کو مسترد کر دیا  تھا۔"

امریکی صدر جو بائیڈن نے 31 مئی کو اعلان کیا  تھاکہ اسرائیل نے تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے۔

اگرچہ بائیڈن نے اس تجویز  کا تعلق اسرائیل سے ہونے کا کہا تھا، لیکن وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بیان دیا  تھا کہ وہ "مقرر کردہ اہداف" کے حصول تک جنگ جاری رکھیں گے۔

3 جون کو پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی سے اپنی تقریر میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا  تھا کہ اسرائیل کی تجویز اور بائیڈن کی تجویز کے درمیان "خلا" ہے۔

 



متعللقہ خبریں