حماس: بلنکن، اسرائیل کوسچّا ثابت کرنے کی کوششوں میں ہیں

بلنکن، اسرائیل کوسچّا ثابت کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ یہ کوششیں اصل میں غزّہ میں نسل کشی کی ساجھے دار امریکی پالیسی کا دوام ہیں: حماس

2152406
حماس: بلنکن، اسرائیل کوسچّا ثابت کرنے کی کوششوں میں ہیں

فلسطین تحریک مزاحمت 'حماس' نے کہا ہے کہ انتھونی بلنکن کی، اسرائیل کو برحق قرار دینے کی، کوشش نسل کشی کی ساجھے دار امریکی پالیسی کا دوام ہے۔

حماس نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "بلنکن، غزّہ میں فائر بندی سمجھوتہ فسخ کرنے کے معاملے میں  اسرائیل کوسچّا ثابت کرنے کی کوششوں میں ہیں ۔ وہ حماس کو، فائر بندی سمجھوتے کے راستے میں روڑے اٹکانے کا  ذمّہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ بلنکن کی یہ کوششیں اصل میں غزّہ میں نسل کشی کی ساجھے دار امریکی پالیسی کا دوام ہیں"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "حماس نے پیش کردہ تجویز کی طرح، فائر بندی سمجھوتے اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق، تمام تجاویز پر مثبت شکل میں اور قومی ذمہ داری کے ساتھ غور کیا ہے۔ لیکن دنیا کو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے فیصلے سے متعلق، نہ تو بنیامین نیتان یاہو  کی طرف سے کوئی مبنی بَر ممنونیت بیان سُننے کو مِلا ہے اور نہ ہی ان کی حکومت کی طرف سے۔ اسرائیل، مستقل  اور  امریکہ کے صدر جو بائڈن کی تجویز سے بالکل متضاد شکل میں، غزّہ میں کسی بھی پائیدار فائر بندی تجویز کو مسترد کرتا چلا جا رہا ہے "۔

واضح رہے کہ بائڈن نے،31 مئی کو وائٹ ہاوس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں، اسرائیل کی طرف سے غزّہ میں فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی ایک نئی تجویز پیش کئے جانے کا اعلان کیا تھا۔

فائر بندی پلان کے جواب  میں حماس نے غزّہ پر اسرائیلی حملوں اور قبضے کے خاتمے کو اوّلیت دینے کا اظہار کیا اور جنگ بندی سمجھوتے کو مثبت ردعمل پیش کیا تھا۔



متعللقہ خبریں