اسرائیل کی نئی حکومت کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے : فلسطینی صدر محمود عباس

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFA کے مطابق عباس نے رام اللہ شہر میں صدارتی مرکز میں تحریک فتح کی انقلابی کونسل کے دسویں مدتی اجلاس کے افتتاحی موقع پر خطاب کیا

1914612
اسرائیل کی نئی حکومت کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے : فلسطینی صدر محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کی نئی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے کام  کرنے  کی ضرورت ہے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFA کے مطابق عباس نے رام اللہ شہر میں صدارتی مرکز میں تحریک فتح کی انقلابی کونسل کے دسویں مدتی اجلاس کے افتتاحی موقع پر خطاب کیا۔

نئی اسرائیلی حکومت کی مخالفت کرنے  کی  ضرورت  پر زور دیتے ہوئے  عباس نے فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حقوق اور اتحاد کے وفادار رہیں اور مزاحمت  کو جاری رکھیں۔

انہوں نے  حکومت  میں تبدیلی کے عمل کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ دنیا اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں، ہم ایک انتہائی مشکل اور حساس عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس عمل کے لیے  ہمیں  تمام افراد  ، منتظمین اور فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے ہر فرد سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل میں بننے والی نئی حکومت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عباس نے نشاندہی کی کہ "ملک کے سخت ترین شدت پسند نئی کابینہ میں شامل  ہو رہے ہیں  جس کی وجہ سے ہمیں اس حکومت سے مزید خلاف ورزیوں، حملوں اور جرائم کی توقع ہے۔ اس لیے ہم سب کو اجتماعی طور پر اس حکومت کی مخالفت کرنے  ، اسے  بے نقاب کرنے اور اس کی ناکام بنانے کے   لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

عباس نے میڈیا، سیاست اور سفارت کاری کے شعبوں میں کام کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  فلسطینیوں کے بیانات سے متصادم اسرائیلی بیان بازی کے خلاف  مزاحمت کی جانی چاہیے، عباس نے اس بات پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں میں شمولیت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور وہ مکمل رکنیت کے لیے دوبارہ اقوام متحدہ  سے رجوع کریں گے۔



متعللقہ خبریں