امریکہ پہلے دوبارہ جوہری معاہدے سے پیچھے نہ ہٹنے کی ضمانت دے، صدرِ ایران

امریکہ یکطرفہ طور پر 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا اور اس لیے ہم واشنگٹن انتظامیہ پر اعتماد نہیں کر سکتے

1881685
امریکہ پہلے دوبارہ جوہری معاہدے سے پیچھے نہ ہٹنے کی ضمانت دے، صدرِ ایران

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے امریکا کو اس بات کی ضمانت دینا چاہیے کہ وہ دوبارہ معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا۔

سی بی ایس ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے امریکی پروگرام "60 منٹس" میں گفتگو کرتے ہوئے رئیسی نے جوہری معاہدے پر اپنے ملک کے موقف اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔

رئیسی نے کہا کہ امریکہ یکطرفہ طور پر 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا اور اس لیے وہ واشنگٹن انتظامیہ پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

"اگر  ایک اچھا اور منصفانہ معاہدہ ہونا ہے تو  ہم کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہوں گے۔ یہ معاہدے کو یقینی طور پر مستقل ہونا چاہیے اور  اس بات کی ضمانت ہونی چاہیے (کہ امریکہ اس معاہدے کو نہیں چھوڑے گا)۔"

انہوں نے ایک سوال کہ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات سے کوئی سمجھوتہ ہونے کی صورت میں ایران میں زیر حراست امریکی شہریوں کو رہا کر دیا جائے گا؟  کے جواب میں بتایا  امریکہ میں قید میں ڈالے گئے  ایرانی شہری بھی ہیں، ہم نے امریکیوں کو ان مسائل کو جوہری مذاکرات سے الگ کر سکنے کا بھی کہا ہے ۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس  پر دو طرفہ طور پر  بات چیت کی جا سکتی ہے۔"

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ بلمشافہ  ملاقات کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر ایرانی افسر نے بتایا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ ایسی کوئی ملاقات ہو گی اور نہ ہی مجھے  یقین  ہے کہ یہ ملاقات  سود مند ثابت ہوگی۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ  2018 میں  جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر  دستبردار ہونے والے امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  سے مختلف نہیں  ہے،   گو کہ انہوں نے مختلف ہونے کے دعوی کیا تھا لیکن   ہم نے اس چیز کا عملی طور پر مشاہدہ نہیں کیا۔

 



متعللقہ خبریں