امریکہ اپنی سابقہ پالیسیوں میں تبدیلیاں لائے، ایران

دوحہ میں ہونے والے امریکہ ۔ ایران جوہری مذاکرات کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ کی امریکی موقف پر کڑی نکتہ چینی

1851415
امریکہ اپنی سابقہ پالیسیوں میں تبدیلیاں لائے، ایران

ایرانی وزیر خارجہ حسین امری عبدل لہیان  نے قطر میں ہونے والے'  جوہری  معاہدے   پر عمل درآمد '  مذاکرات کے   حوالے سے متحدہ امریکہ کو  اس سے قبل کے موقف کو دہرانے اور کسی نئی پالیسی کو پیش  نہ کرنے کا مورد ِ الزام ٹہرایا ہے۔

فارس خبر ایجنسی  کے مطابق  ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی  ہم منصب  کیتھرین کولونا سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے عبداللہیان نے کہا کہ "امریکی فریق نے پیش رفت کی بنیاد پر نئے نقطہ نظر کے بغیر دوحہ مذاکرات  میں شمولیت اختیار کی،  ہمارے نزدیک سابقہ ​​سیاسی موقف کو دہرانا درست نہیں لگتا اور کسی نئے نقطہ نظر  کو پیش کیا جانا چاہیے۔"

اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ تہران انتظامیہ نے عام طور پر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کو مثبت پایا ہے۔

"ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکی فریق سفارتی موقع سے کیسے فائدہ اٹھائے گا۔ سفارت کاری کا راستہ ابھی کھلا ہے۔ ہم ایک اچھے اور دیرپا معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ہم نے ہمیشہ مذاکرات میں اپنی مثبت تجاویز اور خیالات پیش کیے ہیں۔"

ایرانی وزیر نے کہا کہ ان کے ملک نے اپنے وعدوں کو پورا کیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ دوسرا فریق اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔

فرانس کے وزیر خارجہ کولونا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور ایران کے خلاف پابندیاں ہٹائی جانی چاہئیں۔



متعللقہ خبریں