سعودی عرب کی طرف سے فرانس کی حمایت

جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں کے حکومتی اقدامات ، آئین اور اداروں پر تنقید سے پرہیز کریں: محمد بن عبدالکریم العیسٰی

1515474
سعودی عرب کی طرف سے فرانس کی حمایت

سعودی عرب نے فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون کی " اسلامی علیحدگی پسند سوچوں" کے خلاف جدوجہد کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عالمِ اسلام یونین  'رابطہ' کے سیکرٹری جنرل محمد بن عبدالکریم العیسٰی نے رواں مہینے کے آغاز میں ماکرون کے بیانات سے تقریباً 10 روز بعد سعودی ٹیلی ویژن MBC کے لئے انٹرویو میں مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ "جن ممالک میں وہ اقلیت میں ہیں وہاں کے حکومتی اقدامات پر آواز نہ اٹھائیں اور قوانین کی پابندی کریں"۔

العیسیٰ، ولیعہد پرنس محمد بن سلمان سے قربت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور دینی معاملات میں ان کے مشیروں میں شامل ہیں۔

جاری کردہ بیان میں انہوں نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جن ممالک میں وہ اقلیت میں ہیں وہاں کے حکومتی اقدامات ، آئین اور اداروں پر تنقید سے پرہیز کریں کیونکہ  یہ حکومتی اقدامات ، آئین اور ادارے ملکی سلامتی  اور استحکام  کے ضامن ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہیں۔

العیسیٰ نے ان ممالک میں مقیم مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی عبادات کو آئینی دائرہ کار کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کریں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ اماموں کا اسی ملک میں تربیت حاصل کرنا ضروری ہے کہ جہاں وہ مقیم ہوں کیونکہ باہر سے آنے والے امام اپنی ثقافت کو دین کا حصہ خیال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون نے 2 اکتوبر کو اسلامی علیحدگی پسند افکار  کے خلاف جدوجہد کے زیر عنوان کہا تھا کہ"اسلام کے ریپبلک کا ساجھے دار بننے کے لئے اس کی تشکیل نو ضروری ہے"۔

ماکرون نے کہا تھا کہ فرانس کے مسلمان ایک علیحدہ افکار کے حامل نظرئیے کے مالک ہیں اور مذکورہ افراد اپنے قوانین کو فرانس کے قوانین سے بالاتر خیال کرتے ہیں۔



متعللقہ خبریں