لیبیا پارلیمنٹ کا خلیفہ حفتر ملیشیا پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

دارالحکومت ، طرابلس میں پارلیمنٹ کے دفاع اور قومی سلامتی کمیشن کے ذریعہ دیئے گئے بیان میں ، تیراہون شہر جسے حفتر ملیشیا سے آزاد کروالیا گیا ہے   میں جنگی جرائم کے تحت  اجتماعی قبروں کے لئے تفتیش کی استدعا کی گئی ہے

1436861
لیبیا پارلیمنٹ کا خلیفہ حفتر ملیشیا پر جنگی جرائم  کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

لیبیا کی پارلیمنٹ نے عالمی برادری سے ملک کے مشرق میں غیر قانونی  مسلح افواج کے رہنما خلیفہ خفتر اور ان کی ملیشیا کے مقدمے کی سماعت  کا مطالبہ کرتے ہوئے جنگی جرائم عائد کرنے  کا مطالبہ کیا ہے۔

دارالحکومت ، طرابلس میں پارلیمنٹ کے دفاع اور قومی سلامتی کمیشن کے ذریعہ دیئے گئے بیان میں ، تیراہون شہر جسے حفتر ملیشیا سے آزاد کروالیا گیا ہے   میں جنگی جرائم کے تحت  اجتماعی قبروں کے لئے تفتیش کی استدعا کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (یو سی ایم) سے خطاب میں ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم چاہتے ہیں کہ یہ ادارے قاتلوں خصوصا جنگی مجرم کے تحت  مقدمے کی  کریں  اور  انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

دوسری طرف ، یورپی یونین (EU) کے اعلی نمائندے برائے خارجہ تعلقات اور سلامتی کی پالیسی ، جوزپ بورریل کے دفتر سے ایک تحریری بیان میں ، اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اجتماعی قبروں کی دریافت بڑی تکلیف کا باعث  ہے اور "اجتماعی قبروں کی آزادانہ تحقیقات فوری طور پر شروع کی جائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔

لیبیا کی فوج ، جس نے 5 جون کو خفتر ملیشیا سے تیرہوان  شہر  کو واگزار کروانے کے بعد  شہر کے ایک اسپتال میں 106 لاشیں ملی تھیں ، اور 12 جون کو اسے شہر کے دیہی علاقوں  سے بھی  3 اجتماعی قبریں ملی تھیں

 

 



متعللقہ خبریں