ایران: امریکہ کو جوہری سمجحوتے پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں

امریکہ یک طرفہ شکل میں جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہو چکا ہے اسے سمجحوتے پر بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں: ایران وزارت خارجہ

1412889
ایران: امریکہ کو جوہری سمجحوتے پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کو جوہری سمجحوتے کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

جامع مشترکہ عملی پلان کے نام سے پہچانے جانے والے جوہری سمجھوتے سے امریکہ کی دستبرداری کا دوسرا سال مکمل ہونے پر ایران وزارت خارجہ نے تحریری بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ " امریکہ کو جامع عملی پلان سمجھوتے سے نفرت ہے اور اس نے یک طرفہ شکل میں سمجھوتے سے دستبردار ہو کر سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہی نہیں سمجھوتے پر قائم رہنے والوں کو بھی سزا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اصل میں امریکہ جوہری سمجھوتے سے متعلقہ مسائل کو ایجنڈے پر لانے کی حیثیت میں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے درمیان سال 2015 میں تہران کی جوہری سرگرمیوں کے کنٹرول اور مانٹرنگ پر مبنی سمجھوتہ طے پایا تھا۔

یہ سمجحوتہ 16 جنوری 2016 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے فیصلہ نمبر 2231 کے ساتھ نافذ العمل ہو گیا تھا۔

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد واشنگٹن نے 8 مئی 2018 کو یک طرفہ شکل میں سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد دوبارہ سے ایران پر پابندیوں کا نفاذ کر دیا تھا۔

سمجھوتے کے دیگر فریقوں میں سے ایران نے واشنگٹن کو اس فیصلے سے روکنے میں ناکامی کے بعد جولائی 2019 کو جوہری سمجھوتے کی بعض شقوں کو اور 5 جولائی کو پورے سمجھوتے کو کالعدم کر دیا تھا۔



متعللقہ خبریں