صدر ایردوان کی ہدایت پر شام میں پیسس سپرنگ آپریشن شروع

آپریشن کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحدوں پر قائم کیے جانے کی کوشش ہونے والی دہشت گرد راہداری  کے احتمال کو ختم کرنا اور خطے میں امن و آشتی کا قیام ہے

baris pinari harekati1.jpg
cumhurbaskani erdogan.jpg
فرات کے مشرق میں ترک پیس سپرنگ آپریشن شروع
فرات کے مشرق میں ترک پیس سپرنگ آپریشن شروع

فرات کے مشرق میں ترک پیس سپرنگ آپریشن شروع

 

ترک مسلح افواج  نے شمالی شام میں  پی کے کے /وائے پی جی اور داعش دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پیس سپرنگ آپریشن  شروع کر دیا ہے۔

اس کاروائی کے آغاز  کی اطلاع صدر رجب طیب ایردوان نے  ٹویٹر پر کیا ہے۔

ایردوان کے ترکی، انگریزی اور عربی زبان میں پیغام میں لکھا گیا ہے کہ"ترک مسلح افواج نے شامی قومی آزاد فوج کے ہمراہ شمالی شام میں PKK/وائے پی جی اور داعش دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پیس سپرنگ آپریشن   شروع کر دیا ہے۔"

جناب ایردوان نے لکھا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحدوں پر قائم کیے جانے کی کوشش ہونے والی دہشت گرد راہداری  کے احتمال کو ختم کرنا اور خطے میں امن و آشتی کا قیام ہے۔

صدر ِ ترکی  کا کہنا ہے کہ ہم پیس سپرنگ آپریشن   کے ذریعے ہمارے ملک کے لیے  دہشت گردی کے خطرات کا قلع قمع کریں گے، اس کاروائی کی مدد سے قائم کیے جانے والے محفوظ علاقے  میں شامی پناہ گزینوں کو آباد کرایا جائیگا، ہم پیس سپرنگ آپریشن   کی بدولت شامی سرزمین کی سالمیت کا تحفظ کریں گے اور تمام تر خطے کے عوام کو  دہشت گردی کے پنجے سے نجات دلائیں گے۔

انہوں نے اس کاروائی میں حصہ لینے والے بہادر ترک فوجیوں کی کامیابی کی دعا کی۔

واضح رہے کہ صدر ایردوان کے اس کاروائی کی اطلاع دینے سے قبل ہی شانلی عرفا کی تحصیل جیلان پینار  کی مخالف سمت میں واقع رسولائن سے دھویں  کے بادل اٹھنے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔

صدر ِ ترکی نے پیس سپرنگ آپریشن   کے بارے میں ریپبلیکن پیپلز پارٹی کے رہنما کمال کلچ دار اولو، نیشلسٹ موومنٹ پارٹی  کے رہنما دولت باہچے لی اور گڈ پارٹی کی رہنما میرال آکشنر کو ٹیلی فون پر معلومات  فراہم کی ہیں۔



متعللقہ خبریں