امریکہ ہمارے خلاف اقتصادی جنگ بند کردے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں: جواد ظریف

ایرانی  وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے   عندیہ  دیا ہے کہ  امریکہ اگر ہمارے خلاف   اقتصادی جنگ بند کر دے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

امریکہ ہمارے خلاف اقتصادی جنگ بند کردے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں: جواد ظریف

 ایرانی  وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے   عندیہ  دیا ہے کہ  امریکہ اگر ہمارے خلاف   اقتصادی جنگ بند کر دے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

 جواد ظریف نے  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتےہوئے امریکہ  پر الزام لگایا کہ   اس نے ہمارے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

 ایران اور امریکہ کے  مذاکراتی میز پر آنے کےلیے پہلے اقدام کی جانب  اشارہ کرتےہوئے ظریف نے کہا کہ  امریکہ  نے ہمارے خلاف اقتصادی جنگ شروع کر  رکھی ہے  جس کا نشانہ  ایران کے  عام شہری بن رہےہیں  جو کہ مجبوراً معاشی حالات سے تنگ آکر  دہشت گرد بن رہے ہیں لہذا اگر امریکہ  اس قسم کی حرکتیں  بند کر دے تو یہ سلسلہ بھی  جلد ہی انجام کو پہنچ جائے گا۔

  وزیر خارجہ نے ایرانی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ پر عائد سیاحتی  پابندیوں  کو "غیر انسانی" فعل قرار دیا  ۔

یاد رہے کہ  امریکی انتظامیہ نے  سن 2015 میں طے شدہ  جوہری معاہدے کو یک طرفہ طور پر  گزشتہ سال مئی میں  ختم   کرتےہوئے ایران پر پابندیاں  عائد کر دی تھیں۔

 

 

 



متعللقہ خبریں