دوحہ میں قیام امن کے لیے طالبان اور افغان وفد کے درمیان روڈ میپ پر اتفاق

قطر کے دورالحکومت دوحہ میں قطری حکومت اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے مذاکرات ہوئے ،جن میں طالبان اور افغان وفود نے شرکت کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے

1232894
دوحہ میں قیام امن کے لیے طالبان اور افغان وفد کے درمیان روڈ میپ پر اتفاق

دوحہ میں ہونے والے دو روزہ بین الافغان مذاکرات میں افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان اور افغان وفد کے درمیان ایک نقشۂ راہ پر اتفاق ہو گیا ہے  اورفریقین اسلامی اصولوں کے  احترام ، سرکاری اداروں پر حملے روکنے اور سخت بیانات نہ دینے پر رضامند ہوگئے۔

قطر کے دورالحکومت دوحہ میں قطری حکومت اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے مذاکرات ہوئے ،جن میں طالبان اور افغان وفود نے شرکت کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے، مذاکرات کے دوران افغانستان میں امن کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق ہوگیا جسے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے، پرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

فریقین نے عالمی برادری اور علاقائی و مقامی عناصر پر افغان اقدار کا احترام کرنے کے لیے زور دیا۔

مذاکرات کے لائحہ عمل کے مطابق بوڑھے، بیمار اور معذور قیدیوں کو فوری رہا کی جائے گا، سرکاری اداروں اور عوامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، تعلیمی اداروں اور رہائشی علاقوں کا احترام کیا جائے گا اور عام شہریوں کے جانی نقصان کو ختم کیا جائے گا، اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں گے۔

س کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن صرف تمام شراکت داروں کے درمیان مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ افغانستان ایک متحد اسلامی ملک ہے جس میں کئی قومیتیں بستی ہیں جبکہ تمام افغان اسلام کی بالادستی، سماجی و سیاسی انصاف، قومی اتحاد اور علاقائی خود مختاری پر متفق ہیں۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان قوم نے تاریخ بالخصوص گذشتہ 40 سالوں میں اپنے مذہب، ملک اور کلچر کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ فریقین نے بین الاقوامی برادری اور علاقائی و داخلی عناصر پر زور دیا کہ وہ افغان اقدار کا احترام کریں جبکہ تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ 'دھمکیوں، بدلوں اور متنازع الفاظ' سے اجتناب کرتے ہوئے نرم الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کریں تاکہ تنازعات اور بدلے کی آگ نہ بھڑکے۔

 



متعللقہ خبریں