دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں امریکیوں کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے: جواد ظریف

امریکہ کو شام کے معاملے  سے الگ رہنا چاہیے اور کسی کو بھی شام کی داخلی صورتحال سے اپنے سیاست کو چمکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے: جواد ظریف

دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں امریکیوں کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے: جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف  نے کہا ہے کہ ہم نے شام میں عوام کو کم سے کم نقصان پہنچا کر دہشت گردوں کو ادلب سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔

ظریف نے اسمبلی کے تعمیراتی کمیشن سے ملاقات کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے لئے جاری کردہ بیان میں ادلب کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے شام میں عوام کو کم سے کم نقصان پہنچا کر ادلب سے دہشت گردوں کو نکالنے کی کوشش کرنے کا دعوی کیا ہے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ   کے شامی عوام کے بارے کئے گئے ٹویٹ پر تنقید کی ہے۔

ظریف نے کہا ہے کہ ٹرمپ اس دھندلی اور غیر واضح صورتحال کو اپنے داخلہ سیاسی اہداف  کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  امریکی رائے عامہ میں صدر ٹرمپ کی حیثیت تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایک دفعہ پھر شامی عوام  کے خلاف اقدامات کر کے اپنی حیثیت کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں امریکیوں کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ کے خود بھی اس  منفی ریکارڈ کی طرف اشارہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ظریف نے کہا کہ امریکہ کو شام کے معاملے  سے الگ رہنا چاہیے اور کسی کو بھی شام کی داخلی صورتحال سے اپنے سیاست کو چمکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئیے : ادلب میں کسی ممکنہ کیمیائی حملے کی صورت میں ہم  لاتعلق نہیں رہیں گے: نکی ہیلے

آستانہ مرحلے اور شام کے تناو کو کم کرنے کے لئے جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ اس وقت شام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے  اور یہ وہ ہیں جو شام میں آستانہ اور امن مرحلے  کے ذریعے تناو کم کرنے  کے لئے  موزوں ترین کام کر رہے ہیں۔ اگر دیگر عناصر مداخلت نہ کریں تو ہم اس مرحلے کو زیادہ اچھی شکل میں اور کامیابی کے ساتھ حل کر سکتے ہیں۔



متعللقہ خبریں