ہم شام کے مسئلے کے حل سے متعلق ترکی کے خدشات کو دور کریں گے: جنرل جوزف ڈنفورڈ

جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا کہ دو سال قبل شام میں امریکہ اوراتحادی قوتوں کے صرف 200 فوجی موجود  تھے لیکن اسوقت ان کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے

776167
ہم شام کے مسئلے کے حل سے متعلق ترکی کے خدشات کو دور کریں گے: جنرل جوزف ڈنفورڈ

 متحدہ امریکہ کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ  نے کہا ہے کہ ترکی کو شام کے مسئلے کے حل سے متعلق جو خدشات  لاحق ہیں ہم انھیں  دور کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کریں گے ۔

انھوں نے ایسپین شہر میں ہر سال منعقد ہونے والے ایسپن سلامتی فورم  میں این بی سی ٹیلیویژن کو انٹر ویو دیتے ہوئے  دہشت گرد تنظیم داعش کیخلاف جدوجہد کے بارے میں معلومات فراہم کیں ۔انھوں نے کہا کہ دو سال قبل شام میں امریکہ اوراتحادی قوتوں کے صرف 200 فوجی موجود  تھے لیکن اسوقت ان کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔ دہشت گرد تنظیم پی وائے ڈی  پی کے کے  کی ریڑھ کی ہڈی  کی حیثیت رکھتی ہے ۔شامی ڈیموکریٹک قوتوں نے امریکہ کی حمایت سے شام کے شمال مشرقی علاقے کو داعش سے پاک کروا لیا گیا ہے ۔  امریکہ کی طرف سے پی وائے ڈی کی حمایت سے ترکی سخت بے چینی محسوس کرتا ہے ۔اس سلسلے میں امریکہ نے ترکی کے خدشات کو مد نظر رکھا ہے ۔ اس تنظیم کی حمایت کیوجہ سے امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی  شروع ہو گئی تھی ۔

جنرل جوزف ڈنفورڈ  نے کہا کہ صرف راقہ اور وادی فرات سے داعش کو نکالنے کے لیے ہی نہیں  بلکہ ترکی کے ساتھ طویل المدت تعلقات  جاری رکھنے کے لیے ترکی کے خدشات کو کم کرنے کے لیے ہم ہر ممکنہ کوششیں صرف کریں گے اور  شام میں سیاسی یا فوجی حل کے دوران ترکی کے مفادات کو بھی مد نظر  رکھا جائے گا ۔



متعللقہ خبریں