قطر کے امیر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار

قطری امیر نے ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ وہ خلیج میں جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے ایسے مذاکرات کے لیے تیار ہیں جس سے قطر کی خود مختاری کو نقصان نہ پہنچے

775781
قطر کے امیر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار

قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ہم سایہ ممالک کے ساتھ جاری تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے۔

 گزشتہ روز ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں قطری امیر نے کہا کہ ان کا ملک انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات کرتا رہے گا۔

قطری امیر نے ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ وہ خلیج میں جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے ایسے مذاکرات کے لیے تیار ہیں جس سے قطر کی خود مختاری کو نقصان نہ پہنچے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے قطر پر پابندی لگانے کے بعد قطری امیر کا یہ پہلا خطاب تھا۔

شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قطر کو ایک 'بے مثال مہم' کا نشانہ بنایا گیا تاہم انہوں نے اس بحران کو حل کرنے کے لیے کویت کی ثالثی کی کوششوں اور امریکا، ترکی اور جرمنی کی مدد کو بھی سراہا۔

قطری امیر نے فوری طور پر ترکی اور قطر کے درمیان دوطرفہ معاہدے کو نافذ العمل کرنے اور قطر کی ضروریات کو پورا کرنے پر ترکی کا ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر ایک واضح اور سوچی سمجھی سازش کا شکار ہونے کے باوجود اس بحران کے دوران ثابت قدم رہا اور اپنے اس امتحان کے ہر مرحلے میں کامیاب ہوا۔

قطری امیر نے خلیج کشیدگی کے دوران ملک کی عوام کی جانب سے استقامت کا مظاہرہ کرنے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شدید بحران کے باوجود قطری عوام نے اپنا حوصلہ پست نہ ہونے دیا۔

اپنے خطاب کے دوران قطری امیر نے واضح کیا کہ قطر دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں کر رہا بلکہ قطر اپنے اس مقصد میں یقین رکھتا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عالمی دنیا قطر کے کردار کی معترف ہے۔

 



متعللقہ خبریں