پیرس اجلاس فریب زدہ کانفرنس ہے : اسرائیلی وزیر اعظم

وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ پیرس کا اجلاس بے مقصد ہے اور  دھاندلی  کے مترادف ہے

652005
پیرس اجلاس فریب زدہ کانفرنس ہے : اسرائیلی وزیر اعظم

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس  منعقد ہوا۔

افتتاحی اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے نمائندوں نے میں شرکت نہیں کی ۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ پیرس کا اجلاس بے مقصد ہے اور  دھاندلی  کے مترادف ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان  جاری تنازع کے حل کیلئے 70 ممالک کے مندوبین پیرس میں  یکجا ہو ئے ۔انھوں نے  دو ریاستی حل کی از سر نو توثیق اور حمایت کی۔ فلسطین نے اس اجلاس کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اسرائیل اس میں شرکت نہیں کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس اس کے خلاف ہے۔

پیرس میں ہونے والے اجلاس کے مجوزہ بیان میں اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دو قومی نظریے کے تحت ’’ دو ریاستی حل ‘‘ کے لیے اپنے عہد کی باضابطہ پاسداری کریں اور یکطرفہ طور پر ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے مصالحت کے حتمی نتائج متاثر ہوں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے پیرس اجلاس کو ’’فریب زدہ کانفرنس‘‘ قرار دیا ہے اور اس کے پابند ہونے سے انکار کیا ہے۔

فرانس کے صدرفرانسواں اولاند نے کہا ہے کہ اسرائیل نے عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے  علاقے میں یہودی بستیاں قائم کی ہیں ۔اسرائیل اور فلسطین باہمی مذاکرات سے ہی مسئلہ فلسطین کو حل کر سکتے ہیں ۔ وزیر خارجہ یان مارک آئرولٹ  نے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامئیہ  پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے ۔اجلاس میں شریک ممالک نے فلسطین اور اسرائیل  کو شامل کرتے ہوئے علاقے میں اقتصادی تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے والے سرمایہ کاری منصوبوں  کی تیاری کے معاملے میں اتفاق رائے ظاہر کیا ہے ۔ اس اجلاس میں ترکی کی  نمائندگی وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کی ہے ۔



متعللقہ خبریں