عالمی ذرائع ابلاغ۔ 11.12.2020

عالمی ذرائع ابلاغ۔ 11.12.2020

1543673
عالمی ذرائع ابلاغ۔ 11.12.2020

*** القدس العربی: اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے کہا ہے کہ ہم القدس کے تقدس، شناخت اور تاریخ کے دفاع میں  ہرگز تردد نہیں کریں گے۔

 

*** الجزیرہ : مڈل ایسٹ آئی نیوز سائٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے فخری زادے کو قتل کر کے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنا چاہی تھی لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

 

*** الجزیرہ: ترکی نے پابندیوں کے احتمال کا جواب دے دیا ہے: " دھمکی کی زبان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا"۔

 

*** الدستور: عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی آئندہ سال قبل از وقت انتخابات کے لئے موزوں فضاء پیدا کرنے کے لئے جامع قومی ڈائیلاگ شروع کر رہے ہیں۔

 

*** ڈوئچے ویلے: چانسلر اینگیلا مرکل نے وباء کی وجہ سے عالمی سیاسی نظاموں کے درمیان رقابت اور طاقت کے توازنوں میں تبدیلی پیدا ہونے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

 

*** سیوڈٹشے زیتنگ: یورپی یونین سربراہی اجلاس میں بجٹ کا بحران حل ہو گیا۔

 

*** الپائس: اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچز بادشاہت کے بارے میں بحث کے آغاز  کی مخالفت کر رہے ہیں۔

 

*** الموندو: اسپین کے سابق شاہ ہوان کارلوس اول نے کہا ہے کہ اگر ان کا بیٹا شاہ فلپ ششم قبول کرے تو وہ نئے سال میں اسپین واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔

 

*** ٹیلے سُر: کیوبا کے صدر میگیل ڈیاز کینل نے کہا ہے کہ یکم جنوری 2021سے شروع ہونے والے اقتصادی پلان سے ہمارا ہدف بڑھوتی اور پیداواریت میں اضافہ کرنا ہے۔

 

*** نیوز سائٹ گازیتا: امریکہ وزارت خزانہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی وجہ سے چیچنیا کے صدر رمضان قدروف  پر پابندیاں لگا دی ہیں۔

 

*** خبر رساں ایجنسی ریگنوم: روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک میں تیار کی جانے والی کورونا ویکسین کےخلاف انٹر نیٹ پر پروپیگنڈہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

 

***ازوستیا: چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین اور روس  حالیہ دور میں گلوبل استحکام کو یقینی بنانے والے دو ملک ہیں۔

 

*** لے موند: فرانس حکومت نے نئی صحت تدابیر کا اعلان کر دیا ہے اور  کہا ہے کہ وباء کی دوسری لہر ختم نہیں ہوئی۔

 

***فرانس 24: مراکش کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو نے مثبت پیش رفت لیکن حماس نے سیاسی گناہ قرار دیا ہے۔

 

***لے فگارو: فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون کے خاص طور پر کنٹرول و نگرانی کے بارے میں جاری کردہ بعض بیانات کے بعد  سٹراسبرگ میں پولیس کا  احتجاجی مظاہرہ۔

 



متعللقہ خبریں