ترک اخبارات سے جھلکیاں - 23.11.2022

ترک ذرائع ابلاغ

1909856
ترک اخبارات  سے جھلکیاں - 23.11.2022

آج کے ترکیہ کے اہم اخبارات  کی اہم  خبروں کے ساتھ حاضرِ خدمت ہیں ۔

 

***روزنامہ  خبر ترک: "صدر ایردوان : ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے"

صدر رجب طیب ایردوان نے شمالی علاقوں میں دہشت گرد تنظیموں کے راکٹ حملے کے حوالے سے کہا کہ  دہشت گرد تنظیم کا نام تبدیل کر کے اور اپنے فوجیوں کے  ان  کے ارد گرد جمع ہونے اور ان کی پش پناہی کرنے  والوں کو ہم بہت قریب  سے جانتے ہیں  لیکن اب ان دہشت گردوں کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے۔  صدر  ایردوان  نے کہا کہ ہماری سرحدوں اور ہمارے شہریوں پر حملوں پر کوئی بھی ہمیں حفاظتی لکیر کھینچنے اور نہ ہی اس کی مخالفت کرسکتا ہے نہیں  روک سکتا ۔

 

***روزنامہ حریت: "وزیر داخلہ  سویئلو کا جرمن وزیر پر دہشت گردانہ ردعمل"

وزیر داخلہ سلیمان سویئلو  نے  جرمن وزیر داخلہ نینسی فیسر کے  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تناسب کے بارے میں  بیان کے بارے میں کہا ہے کہ  استقلال اسٹریٹ پر بے گناہ لوگ مارے گئے۔ ان لوگوں پر کوئی تناسب لاگو نہیں کیا گیا۔ پولینڈ پر دو بم گر نے پر نیٹو فوری طور پر چوکس ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ  لوگوں کو  ان کے جغرافیہ، مذہب اور ان علاقوں کے لحاظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس میں وہ رہتے ہیں۔ انسانی حقوق پوری دنیا کے عوام کے حقوق ہیں۔

 

***روزنامہ وطن: "دہشت گردی کا شکار 5 سالہ حسن کو الوداع"

شام کے عین العرب علاقے میں PKK/YPG دہشت گردوں کی جانب سے غاز ی انتپ کے علاقے قار قمیش  میں  اسکولوں  پر کیے گئے  راکٹ حملے میں شہید ہونے والے 5 سالہ حسن کارتاش اور  اسکول ٹیچر  عائشہ  آلکان  کو   اشک بار آنکھوں  سے  سپرد خاک کر دیا گیا۔

 

***روزنامہ ینی شفق: "روس، ترکیہ کا آپریشن اس  کا جائز حق ہے"

روسی صدارتی کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا، ’’ہم شام کے بارے میں ترکیہ کے خدشات کو سمجھتے ہیں، شام اور شمالی عراق میں ترکیہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں  اور علاقے میں ترکیہ کا آپریشن کرنا اس کا  جائز حق ہے۔

 

***روزنامہ  اسٹار : "مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی طرف سے ترکیہ کا شکریہ"

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے کہا، "ہم ہر اس شخص کے شکر گزار اور قابل احترام ہیں جنہوں نے ثقافتوں، مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان افہام و تفہیم، اعتماد اور مکالمے کے حوالے سے الائنس آف سولائزیشنز فورم کی تنظیم کو جاری رکھنے اور اس تنظیم کو ادارہ جاتی بنانے میں تعاون کیا۔

 

 

 

 



متعللقہ خبریں