پاکستان اور افغانستان نے چمن سرحدی چوکی کو دوبارہ کھول دیا

پاکستانی پریس میں چھپنے والی خبروں کے مطابق حملے کے بعد دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے

1908790
پاکستان اور افغانستان نے چمن سرحدی چوکی کو دوبارہ کھول دیا

چمن بارڈر پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپ میں ایک پاکستانی فوجی کی ہلاکت کے باعث 13 نومبر کو بند  سرحدی چوکی   کو   دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

پاکستانی پریس میں چھپنے والی خبروں کے مطابق حملے کے بعد دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے  کہ افغانستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ حملہ آور کو پاکستان کے حوالے کر دے گا۔

پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز نے سرحد پر مصافحہ کیا اور سرحدی گزرگاہ کو 8 دن بعد پیدل چلنے والوں اور تجارتی گزرگاہوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔

پاکستانی حکام نے اعلان کیا کہ سرحدی کراسنگ کو 13 نومبر کو اس وقت  عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا جب ، افغانستان کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے  میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔

حکام  نے  حملہ آور کو پاکستانی حکام کے حوالے کرنے تک سرحدی گزرگاہ  بند رہنے  کا اعلان کیا تھا۔

چمن میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد 2,670 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 18 سرحدی گزرگاہیں ہیں۔

چمن اور طورخم کی سرحدیں مصروف ترین کراسنگ پوائنٹس کے طور پر نمایاں ہیں۔

 

 



متعللقہ خبریں