ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری، 41 افراد ہلاک

"اخلاقی پولیس" اور "لازمی ہیڈ اسکارف" پریکٹس کے خلاف مظاہرے اس وقت بھی جاری ہیں جب ماہسا امینی کو دارالحکومت تہران میں 13 ستمبر کو اخلاقی پولیس نے اس بنیاد پر حراست میں لیا تھا کہ اس نے اسکارف کے قوانین کی پابندی نہیں کی تھی اور  16  ستمبر کو انتقال کر گی

1884095
ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری،  41 افراد ہلاک

ایران میں 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقیات پولیس کے ہاتھوں حراست میں لینے کے بعد ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 41 ہوگئی۔

"اخلاقی پولیس" اور "لازمی ہیڈ اسکارف" پریکٹس کے خلاف مظاہرے اس وقت بھی جاری ہیں جب ماہسا امینی کو دارالحکومت تہران میں 13 ستمبر کو اخلاقی پولیس نے اس بنیاد پر حراست میں لیا تھا کہ اس نے اسکارف کے قوانین کی پابندی نہیں کی تھی اور  16  ستمبر کو انتقال کر گئی تھیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں پولیس افسران اور پاسداران انقلاب سے وابستہ بیسک ملیشیا کے ارکان سمیت 41 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

خبر کے تسلسل میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایرانی حکام کی جانب سے ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں باضابطہ بیان دیا جائے گا۔

مہسا امینی کی موت کے حوالے سے ایک بیان میں، تہران پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ امینی کو غیر موزوں اسکارف کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا، اور پھر وہ جسمانی ریمانڈ کے  دوران  پولیس سٹیشن میں بیہوش ہو گئی تھیں۔



متعللقہ خبریں