افغانستان حکومت میں، ملک کے تمام نسلی گروپوں کی نمائندگی ضروری ہے: پوتن

ہماری تمام کوششوں کی بنیاد میں کارفرما موقف 'ملکی انتظامیہ میں تمام نسلی گروپوں کی نمائندگی' ہے اور ہم اپنی کوششوں کو اسی نہج پر جاری رکھیں گے: صدر ولادی میر پوتن

1849516
افغانستان حکومت میں، ملک کے تمام نسلی گروپوں کی نمائندگی ضروری ہے: پوتن

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ افغانستان حکومت میں، ملک کے تمام نسلی گروپوں کی نمائندگی ضروری ہے۔

صدر پوتن  نے، 24 فروری کو روس۔یوکرین جنگ  کے آغاز کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ تاجکستان کا   کیا۔ دارالحکومت دوشنبہ پہنچنے پر انہوں نے صدر امام علی  رحمٰن کے ساتھ ملاقات کی۔

مذاکرات کے ذرائع ابلاغ کے لئے کھُلے حصے میں پوتن نے کہا ہے کہ روس اور تاجکستان کے باہمی تعلقات  کو مزید فروغ ملا ہے اور دو طرفہ تجارت کی بڑھوتی میں سال کے پہلے 3 سے 4 ماہ میں ریکارڈ اضافہ ہو ا ہے۔

صدر پوتن نے سلامتی کو اہمیت دینے کا ذکر کیا اور افغانستان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم افغانستان میں حالات کی بہتری کے لئے ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں۔ حالات پر حاوی قوّتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری تمام کوششوں کی بنیاد میں کارفرما موقف یہ ہے کہ ملکی انتظامیہ میں تمام نسلی گروپوں کو نمائندگی دی جانی چاہیے اور ہم اپنی کوششوں کو اسی نہج پر جاری رکھیں گے"۔

صدر پوتن نے جون کے آغاز میں منعقدہ 25 ویں سینٹ پیٹرز برگ بین الاقوامی اقتصادی فورم میں افغان وفد کی شرکت کی یاد دہانی کروائی ا ور  کہا ہے کہ ہم افغانستان کی تمام سیاسی طاقتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔

تاجکستان کے صدر امام علی  رحمٰن نے بھی کہا ہے کہ روس  ہمارا سرفہرست تجارتی و اقتصادی اتحادی  ہے۔ سال کے پہلے 5 ماہ میں دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔  علاقوں کے درمیان تعاون فروغ پا رہا ہے۔ روس کے 80 سے زائد علاقوں کے تاجکستان کے ساتھ تجارتی اور دیگر  روابط پائے جاتے ہیں۔

صدر رحمٰن نے کہا ہے دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے معاملے میں گہرا تعاون جاری ہے۔ ہم صدر پوتن کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر غور و فکر کے لئے تیار ہیں۔



متعللقہ خبریں