روس اور یوکرین کے درمیان، بذریعہ مذاکرات، بحالی امن کے ساتھ تعاون کیا جائے: جن پنگ

روس۔ یوکرین جنگ  کا بتدریج پھیل کر دھڑوں کے درمیان کھینچا تانی میں تبدیل ہونا عالمی سلامتی اور استحکام کے لئے زیادہ بڑے اور زیادہ طویل المدت خطرات پیدا کرے گا: صدر شی جن پنگ

1825386
روس اور یوکرین کے درمیان، بذریعہ مذاکرات، بحالی امن کے ساتھ تعاون کیا جائے: جن پنگ

چین کے صدر شی جن پنگ نے فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون سے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کی، بذریعہ مذاکرات، امن کی طرف واپسی کے ساتھ تعاون کیا جانا ضروری ہے۔

شی جن پنگ نے کل امانوئیل ماکرون کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی۔

مذاکرات میں دونوں رہنماوں نے، بذریعہ مذاکرات روس اور یوکرین کے درمیان، بحالی امن کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جن پنگ نے  کہا ہے کہ 24 فروری سے جاری روس۔ یوکرین جنگ  کا بتدریج پھیل کر دھڑوں کے درمیان کھینچا تانی میں تبدیل  ہونا عالمی سلامتی اور استحکام کے لئے زیادہ بڑے اور زیادہ طویل المدت خطرات پیدا کرے گا ۔ اس صورتحال کے سدّباب  کے لئے انہوں نے فریقین سے اعتدال سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ چین اپنے طریقے سے مذاکرات کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اپنی سلامتی کے بارے میں  یورپ کے حق ِ اظہار کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

دونوں رہنماوں نے چین۔فرانس تعلقات اور چین۔ یورپی یونین تعلقات کے بارے میں بھی تبادلہ خیالات کیا۔

مذاکرات میں ماکرون نے یوکرین سے متعلق متعدد پہلووں پر چین اور فرانس کے درمیان فکری مماثلت کاذکر کیا اور کہا ہے کہ فرانس، چین کے ساتھ دو طرفہ اور کثیر الفریقی  سطح پر مزید قریبی تعاون پر تیار ہے۔

ماکرون نے فرانس اور یورپی یونین کی اسٹریٹجک خودمختاری پر زور دیا اور  کہا ہے کہ فرانس نہ تو دھڑے بندی  کے حق میں ہے اور نہ ہی کسی دھڑے میں شامل ہو گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم چین کے ساتھ زرعی، مویشی بانی، سِول نیوکلئیر انرجی اور ثقافت جیسے شعبوں میں 5 سالہ سمجھوتے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد اور نباتاتی تنوّع کے تحفظ جیسے شعبوں میں تعاون کے لئے تیار ہے۔



متعللقہ خبریں