تمام مذاہب کو اسکولوں کے یونیفارم کے قوانین کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے: بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ

نیوز 18 کے ساتھ ایک انٹرویو میں  امیت  شاہ نے کہا کہ جب حجاب  پر پابندی کے بارے میں عدالت کا فیصلہ سنایا جائے گا تو وہ اسے قبول کریں گی اور سب کو اسے قبول کرنا چاہیے

1782324
تمام مذاہب کو اسکولوں کے یونیفارم کے قوانین کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے: بھارتی وزیرداخلہ  امیت شاہ

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ تمام شہری چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو، ڈریس کوڈ کے تابع ہیں۔

نیوز 18 کے ساتھ ایک انٹرویو میں  امیت  شاہ نے کہا کہ جب حجاب  پر پابندی کے بارے میں عدالت کا فیصلہ سنایا جائے گا تو وہ اسے قبول کریں گی اور سب کو اسے قبول کرنا چاہیے۔

"تمام مذاہب کو اسکول کے ڈریس کوڈ کو قبول کرنا چاہیےامیت  شاہ نے کہا کہ   جب تک عدالت کوئی فیصلہ نہ کرے ان کی رائے تب تک درست ہے ۔

ریاست بھر میں حجاب  پر طویل عرصے سے عائد پابندی پر یکم جنوری کو بحث شروع ہوئی، جب سرکاری ملکیت والے اڈوپی خواتین کالج میں مسلم طالبات نے حجاب  پہنا۔

کرناٹک کے دیگر اسکولوں میں، جب مسلم طالبات کلاسوں میں سر پر اسکارف پہنتی تھیں، ہندو طالبات نے رد عمل کا اظہار کیا اور زعفرانی شالوں کے ساتھ کلاسوں میں داخل ہو نا شروع کردیا ۔

19 جنوری کو اڈوپی میں اسکول کے منتظمین، سرکاری افسران، طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں کوئی حل نہیں نکل سکا اور 5 طالبات نے اسکول کے باہر احتجاج شروع کردیا۔

ریاستی حکومت نے 26 جنوری کو ایک ماہر کمیٹی قائم کی اور اعلان کیا کہ  جب تک وفد نے اپنی رائے نہیں دی، سر پر اسکارف والے طلباء کو یونیفارم کے اصولوں پر عمل کرنے اور بغیر اسکارف کے اسکول میں داخل ہونے کی ضرورت  ہے ۔

حجاب  والی طالبات  نے 31 جنوری کو کرناٹک ہائی کورٹ میں یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ہیڈ اسکارف ایک بنیادی حق ہے جو ہندوستانی آئین نے فراہم کیا  جائے کہ درخواست دی تھی۔

عدالت نے کہا تھا کہ جس ریاست میں ہیڈ اسکارف پر تناؤ پایا جاتا ہے، اس موضوع پر فیصلہ آنے تک  طالبات  ہیڈ اسکارف کے ساتھ اسکولوں میں داخل نہیں ہوسکتے۔

پریزائیڈنگ جج نے ریاست میں حجاب  کی کشیدگی کی وجہ سے معطل کر دہ تعلیم  کو جاری رکھنے  کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔



متعللقہ خبریں