چین کا AUKUS کے خلاف احتجاج، سمجھوتہ علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے

سمجھوتہ اسلحے کی دوڑ میں تیزی لا کر جوہری اسلحے کے پھیلاو کو روکنے کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے: کاو لیسین

1707122
چین کا AUKUS کے خلاف احتجاج، سمجھوتہ علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے

چین کی وزارت خارجہ نے، امریکہ ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے طے کردہ  اور جوہری آبدوزوں  کے حصول میں کینبرا کے ساتھ تعاون کے حامل نئے اتحاد سمجھوتے کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کاو لیسین نے بیجنگ میں یومیہ پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ چین امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے 'AUKUS'پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

کاو نے کہا ہے کہ" نیا سکیورٹی اتحاد'AUKUS' علاقائی امن و سلامتی کی بیخ کنی کر رہا  ہے ۔ سمجھوتہ اسلحے کی دوڑ میں تیزی لا کر جوہری اسلحے کے پھیلاو کو روکنے کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے"۔

ترجمان کاو نے کہا ہے کہ سکیورٹی اتحاد سمجھوتہ طے کرنے والے ممالک نے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ جوہری برآمدات کو جیو پولیٹک کھیلوں  کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بوریس جانسن، امریکہ کے صدر جو بائڈن اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریس  نے شائع کردہ مشترکہ اعلامیے میں، تینوں ممالک کے مختصر ناموں کے اجتماع سے تخلیق کئے گئے، " AUKUS " نامی سکیورٹی اتحاد کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا کے شاہی بحری بیڑے میں جوہری آبدوزیں شامل کرنے کے لئے اس ملک کی مدد کی جائے گی۔

آسٹریلیا  کی حاصل کردہ  جوہری آبدوزوں کو ، ہندپیسیفک  استحکام کو تقویت دینے اور مذکورہ ممالک کی مشترکہ اقدار اور مفادات  کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

مذکورہ ممالک کے خیال میں یہ سمجھوتہ ہند پیسیفک میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کے سدباب اور سمجھوتے کے رکن ممالک کے  مفادات کے دفاع کے لئے   کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

واضح رہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کے مقابل گذشتہ ہفتے برطانیہ کے HMS کوئین الزبتھ ائیر کرافٹ کیرئیر کو ہند پیسیفک میں متعین کر دیا گیا تھا۔


ٹیگز: #AUKUS

متعللقہ خبریں