کابل کے ہوائی اڈے سے کل کے دہشت گردی کے حملے کے بعد پروازیں بحال

کابل کے باشندوں نے آج صبح کئی ایک  ہوائی جہازوں  کے  کابل ہوائی اڈے سےپرواز کرنے  کی معلومات کا شئیر کیا ہے

1698438
کابل کے ہوائی اڈے سے  کل کے دہشت گردی کے حملے کے بعد پروازیں بحال

کل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے علاقے میں دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں غیر ملکی شہریوں اور افغان شہریوں کا انخلاء دوبارہ شروع  کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کابل کے باشندوں نے آج صبح کئی ایک  ہوائی جہازوں  کے  کابل ہوائی اڈے سےپرواز کرنے  کی معلومات کا شئیر کیا ہے۔

افغانستان کے مقامی ٹیلی ویژن چینل ٹولو ٹی وی نے   ایئرپورٹ کے باہر انتظار کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافے کی تصاویر  کو پیش کیا ہے۔

 کل انخلاء کے وقت کابل حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب علاقے میں دو الگ الگ دھماکے ہوئے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے  کل اپنی تقریر  میں حملہ کرنے والوںکو نشانہ بنانے  اور ان سے  انتقام لینے کی قسم کھائی تھی ۔

بائیڈن نے اپنی تقریر میں حملہ داعش ،  خراسان  کی جانب سے کیے جانے  سے آگاہ کیا تھا۔

بائیڈن نے کہا کہ انہیں داعش/خراسان پچھلے چند ہفتوں میں کابل کے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے کی خفیہ اطلاع ملی تھی  اور  اسی وجہ سے ، وہ 31 اگست تک افغانستان میں اپنا مشن ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ہلاک  والوں کی تعداد 90 ہو گئی ہے اور کم از کم 150 زخمی ہیں۔

امریکی سینٹرل فورسز (سینٹ کام) کے ترجمان کرنل بل اربن نے اعلان کیا کہ دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 13 اور زخمیوں کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

اپنا نام  نہ بتانے والے طالبان رہنما نے طالبان کے 28 ارکان کے ہلاک ہونے   سے بھی آگاہ کیا ہے۔

 



متعللقہ خبریں