سمندری طوفان"امفان" بھارت اور بنگلہ دیش میں امدادی سرگرمیاں جاری،97 ہلاکتیں

سمندری طوفان" امفان" کے بعد مشرقی بھارت اور بنگلہ ديش کے متاثرہ علاقوں ميں امدادی سرگرمياں جاری ہيں جبکہ اس کے باعث 97 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہيں

1421883
سمندری طوفان"امفان" بھارت اور بنگلہ دیش میں امدادی سرگرمیاں جاری،97 ہلاکتیں

سمندری طوفان" امفان" کے بعد مشرقی بھارت اور بنگلہ ديش کے متاثرہ علاقوں ميں امدادی سرگرمياں جاری ہيں۔

اس طاقتور طوفان کے باعث 97 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہيں۔
 185 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے حامل طوفان نے سب سے زيادہ تباہی مغربی بنگال ميں مچائی اور رياستی دارالحکومت کولکتہ ميں ہر طرف درخت بکھرے پڑے ہيں۔ 
 اندازے کے مطابق بنگلہ ديش ميں یہ سمندری طوفان  130 ملين ڈالر کے قريب مالی نقصان کا باعث بنا ہے۔
بھارت اور بنگلادیش میں امفان نامی طوفان نے تباہی مچادی جس کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
 واضح رہے کہ امفان طوفان ایک روز قبل بھارت کی مشرقی ریاستوں اور بنگلادیش کے ساحل سے ٹکرایا تھا، یہ 1999 کے بعد خلیج بنگال مین آنے والا خطرناک ترین طوفان ہے۔
امفان کے ساحل پر ٹکرانے کے بعد بھارت کی مشرقی ریاستوں اور بنگلادیش کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشیں ہوئیں جبکہ مٹی کے تودے گرنے کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ سمندری طوفان کے باعث ہونے والی بارشوں نے سب سے زیادہ نقصان سندربان جنگل کو پہنچایا جو بھارت اور بنگلادیش کے درمیان میں واقع  ہے ۔
 اس جنگل کو یونیسکو نے قومی ورثہ بھی قرار دیا کیونکہ یہاں 98 نایاب اقسام کے چیتوں کو افزائش نسل کے لیے رکھا گیا ہے۔ 



متعللقہ خبریں