نئی دہلی:مذہبی فسادات میں 20 افراد ہلاک ،سینکڑوں زخمی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی  میں نئے شہریت قانون پر ہونے والے مذہبی فسادات کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد 20 ہوگئی جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہیں

نئی دہلی:مذہبی فسادات میں 20 افراد ہلاک ،سینکڑوں زخمی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی  میں نئے شہریت قانون پر ہونے والے مذہبی فسادات کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد 20 ہوگئی جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا  کے مطابق، دہلی کے شمال مشرقی علاقوں، موجپور، جعفرآباد، چاند باغ اور کراول نگر میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

اس کے علاوہ حکام نے فسادات سے متاثرہ تمام علاقوں میں شرپسندوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے احکامات دے دیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے لیکن تناؤ کی فضا بدستور برقرار ہے، اسکول بند ہیں جبکہ اسمبلی پر پابندی جاری ہے۔

اس ضمن میں دہلی پولیس کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور 2 شمال مشرقی علاقوں کو مظاہرین سے خالی کروالیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والا احتجاج پیر اور منگل کو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان جھڑپ کی صورت اختیار کرگیا تھا جس میں پتھروں تلواروں حتی  بندوقوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ  سال  11 دسمبر کو بھارتی پارلیمان  سے شہریت ترمیمی  بل  منظور ہوا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3  ہمسایہ  ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی جبکہ اس فہرست میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔

 



متعللقہ خبریں