افغان حکومت کی طالبان سے مکمل طور پر فائر بندی کی درخواست

امن کا قیام افغان حکومت کے لیے جنگ کے خاتمے کا مفہوم رکھے گا

افغان حکومت کی طالبان سے مکمل طور پر فائر بندی کی درخواست

افغانی ایوان صدر  کے ترجمان  صدیق صدیقی کا  کہنا ہے کہ حکومت طالبا ن سے فائر بندی پر عمل درآمد کی توقع رکھتی ہے۔

صدیق نے سماجی رابطوں کی ویب  سائٹ پر اپنے اعلان میں کہا ہے کہ افغان حکومت نے  طالبان سے  شدت  میں گراوٹ سے  ہٹ کر  صحیح معنوں میں فائر بندی کی  درخواست کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کے لیے فائر بندی لازمی ہے، محض پر تشدد واقعات میں کمی سیاسی اور قانونی اعتبار سے بے معنیٰ ہو گی، امن کا قیام افغان حکومت کے لیے جنگ کے خاتمے کا مفہوم رکھے گا۔

ہر طرح کے پر تشدد واقعات  کو جنگ کی نظر سے  دیکھے جانے  کی توضیح کرنے والے  صدیق  نے اس بات پر زور دیا ہے کہ  اس بنا  پر پیش کردہ امن  تجویز  اعلی ٰ خصوصیات کی حامل ہیں۔

اشرف غنی  کی زیرِ انتظامیہ کی حکومت  کے لیے  بڑے پیمانے کا خطرہ تشکیل دینے والی طالبان تنظیم  نے ملک کے  متعدد علاقوں پر اپنی حاکمیت قائم کر رکھی ہے۔

حکومت  کی جانب سے گزشتہ برسوں میں طالبان سے امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے بار ہا  جدوجہد کرنے اور اس دائرہ کار میں امن کونسل کے قیام کے باوجود  تا حال کوئی نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکا گیا۔

 



متعللقہ خبریں