بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقدمے کا فیصلہ ہندووں کے حق میں دے دیا

بابری مسجد جس ڈھانچے پر تعمیر کی گئی اس کا کوئی اسلامی پس منظر بھی  نہیں ملتا، بھارتی سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقدمے کا فیصلہ ہندووں کے حق میں دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے 1992 میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو متنازع زمین دینے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی جب کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متنازعہ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کا  کہنا ہے  ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع زمین کے مالک رام جنم بھومی نئیاز ہیں اور حکم دیا کہ مندر کی تعمیر کے لیے 3 ماہ میں ٹرسٹ تشکیل دیا جائے۔

چیف جسٹس راجن گوگوئی نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت  نہیں ملا کہ 1856 سے پہلے اس سر زمین پر کبھی بھی نمازادا کی گئی ہو جب کہ بابری مسجد جس ڈھانچے پر تعمیر کی گئی اس کا کوئی اسلامی پس منظر بھی  نہیں ملتا ، اس مقدمے کا  فیصلہ ایمان اور یقین پر نہیں بلکہ دعووں پر کیا جاسکتا ہے۔ تاریخی بیانات ہندوؤں کے اس عقیدے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آیودھیا رام کی جائے پیدائش تھی۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کی متنازع جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو فراہم کیے جانے پر بھارت کی حکومتی شخصیات، سیاستدانوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

بابری مسجد فیصلے کے حوالے سے پورے بھارت میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے تا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے۔



متعللقہ خبریں