ہانگ کانگ میں احتجاج جاری، متنازع بِل پر غور ملتوی

ہانگ کانگ کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بِل پر بحث کے لیے بدھ کی صبح ہونے والا ہانگ کانگ کی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے

ہانگ کانگ میں احتجاج جاری، متنازع بِل پر غور ملتوی

چین کے نیم خودمختار علاقے ہانگ کانگ کی حکومت نے اس متنازع مسودۂ قانون پر بحث ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے خلاف علاقے میں شدید عوامی احتجاج جاری ہے۔

ہانگ کانگ کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بِل پر بحث کے لیے بدھ کی صبح ہونے والا ہانگ کانگ کی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

مجوزہ بِل کے خلاف ہانگ کانگ میں اتوار کو 10 لاکھ سے زائد افراد نے جلوس نکالا تھا جس کے دوران جلوس کے بعض شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ 1997ء میں ہانگ کانگ کے چین سے الحاق کے بعد اب تک ہونے والا یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔

ہانگ کانگ میں شہری چین میں ٹرائل کے متنازع بل کے خلاف شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

متنازع بل کے خلاف مظاہرین کا ہانگ کانگ کی سڑکوں پر راج رہا اور بڑی تعداد میں قانون ساز کونسل کے سامنے لوگ احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔

شہریوں نے قانون سازکونسل کےسامنےلگائی گئی رکاوٹیں ہٹادیں جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے مرچوں کےاسپرے کئے۔

سول ہیومن رائٹس فرنٹ نےآج سےعام ہڑتال کی کال دے دی ہے، امریکی میڈیاکےمطابق مظاہرین کے احتجاج کے باوجود بل کو قانون میں تبدیل کئے جانے کاامکان ہے۔

متنازع بل پر قانون ساز کونسل میں آج دوبارہ بحث کی جائے گی، جبکہ بل پر قانون سازکونسل میں 20جون کو ووٹنگ ہوگی۔



متعللقہ خبریں