ہم یورپی یونین مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں: صدر مہاتیر

پام آئل کے استعمال میں کمی اور ممانعت کے بارے میں یورپی یونین ممالک کی پالیسیاں جاری رہنے کی صورت میں ہم بھی یورپی یونین مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں: صدر مہاتیر محمد

ہم یورپی یونین مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں: صدر مہاتیر

ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ پام آئل کے استعمال میں کمی اور ممانعت کے بارے میں یورپی یونین ممالک کی پالیسیاں جاری رہنے کی صورت میں ہم بھی یورپی یونین مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔

اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں  صدر مہاتیر محمد نے یورپی یونین ممالک  کے پام آئل کو ممنوع قرار دینے کے منصوبوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ "پام آئل کے بارے میں یہ غیر منصفانہ روّیہ جاری رہنے کی صورت میں ہم یورپ سے آنے والی مصنوعات کی خرید بند کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے یورپی یونین ممالک کو ایک مراسلہ روانہ کیا ہے تاہم انہوں نے یورپی یونین مصنوعات کے بائیکاٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

صدر مہاتیر نے فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون کو ماہِ جنوری میں ایک مراسلہ تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے دسمبر 2018 کو فرانس کی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے اور 2020 سے بیالوجک ایندھن میں پام آئل  کے استعمال کو ممنوع قرار دینے پر مبنی آئینی بِل پر تنقید کی اور اس بِل کو رد کرنے کی اپیل کی تھی ۔

واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے  2018 کے آغاز میں، جنگلات کے خاتمے کا سبب بننے کو وجہ دکھا کر، بیالوجک ایندھنوں میں  پام آئل کے استعمال  کو محدود  کرنے اور 2030 سے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عالمی پام آئل  پیداوار کا 90 فیصد  دینے والی ملائشیا اور انڈونیشیا کی حکومتیں کچھ عرصے سے یورپی یونین ممالک  کے پام آئل کو ممنوع قرار دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔



متعللقہ خبریں