دنیا میں بحالی امن کی کوششوں میں ترکیہ نے اپنا سکہ منوایا ہے:صدارتی مشیر

صدارتی مشیر اطلاعات فخر الدین آلتون نے کہا ہے کہ ترکیہ نے بحالی امن کی کوششوں میں دنیا سے اپنا سکہ منوالیا ہے

1916963
دنیا میں بحالی امن کی کوششوں میں ترکیہ نے اپنا سکہ منوایا ہے:صدارتی مشیر

ٹی آر ٹی ورلڈ فورم کا آغاز  مستقبل کی تشکیل نو، غیر یقینی صورتحال ،مستقبل ا ور مواقع کے زیر عنوان   پروگرام کا آغاز ہوا۔

صدارتی شعبہ اطلاعات نے اففتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ   ترکیہ نے ایک ایسی پالیسی اپنائی ہے جسے دنیا کی تائید بھی حاصل ہے۔

اس فورم میں چالیس ممالک سے ایک سو کے قریب مقررین شرکت کر رہے ہیں،  صدارتی  مشیر نے کہا کہ   ترکیہ نے اپنی  خارجہ پالیسیوں کی بدولت دنیا میں  ایک الگ مقام بنایا ہے، ہماری خارجہ پالیسی کا طرز عمل حکمت عملی  اور مفاہمت کے اصولوں پر مبنی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حالیہ بیس سالوں کے دوران سیاسی استحکام ،اقتصادی اعتماد کی فضا اور معاشرتی امن و سکون  کی بدولت   ہماری خارجہ پالیسی اعلی کارکردگی کا مظہر رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم ترکیہ سمیت  خطے  اور  دنیا کے ہر کونے میں ڈیموکریسی، امن و خوش حالی  کا دور دورہ چاہتےہیں، ترکیہ اس وقت علاقے میں ایک مرکزی کردار کا حامل ہے، ترکیہ مختلف علاقوں اور گروہوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے جس میں مکالمت اور سفارتی کوششوں کا عمل دخل بھی شامل ہے۔

مشیر نے کہا کہ  روس۔یوکرین جنگ کے دوران بھی ترکیہ  نے سفارتی کوششوں میں کامیابی حاصل کی ہے،دس ماہ سے جاری روس۔یوکرین  جنگ  کے دوران  امن کی بحالی کےلیے کوششوں کی دنیا  ترکیہ کی معترف ہے  جو کہ عالمی امن  پر پورا یقین رکھتا ہے،سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں رکنیت کے حوالے سے ترکیہ کی کوششوں کی بدولت عالمی سطح پر انسداد دہشتگردی میں مدد ملے گی ۔

 آلتون نے کہا کہ  علاقائی مسائل کے حل  میں بھی ترکیہ کا کردار اہم رہا ہے کیونکہ   کٹھن تجربات کے نتیجے میں ہم مشرقی وسطی، بلقان،بحیرہ اسود   اور  مشرقی بحیرہ روم  یا کسی  بھی دوسرے خطے  میں بیرونی مداخلت سے  نہ تو امن اور نہ ہی کسی بحران کا حل نکلا ہے۔ ترکیہ کی خارجہ پالیسی کا ایک دیگر اہم موضوع عالمی گروہ بندی کے خاتمے اور ایک نئی سرد جنگ   کے آغاز کا سد باب بھی کرنا ہے۔ ہماری پالیسی کا محور انسانی ،عالمی خوراک،توانائی اور ماحولیاتی  بحرانوں کے حل میں کردار ادا کرنا ہے اس کے ساتھ ساتھ نفرت آمیز رویوں،اسلامو فوبیا  اور اینٹی سیمیٹزم کے خلاف جنگ  اور عالمی استحکام کی بحالی کےلیے پیش رفت کرنا بھی   ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔

صدارتی مشیر نے مزید کہا کہ   غلط خبروں اور معلومات کے خلاف جنگ  میں بھی ہمیں اپنی استعدادی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اس سلسلے میں اتحاد قائم کرنے کےلیے  عالمی سطح پر  اہمیت حاصل کرنا ہوگی۔ سب اس بات کے گواہ ہین کہ  دور حاضر میں غلط بیانی سے متعلق ایک پیچیدہ اور الجھا ہوا نظام موجود ہے جو کہ  قومی،علاقائی اور عالمی استحکام،انفرادی حقوق اور معاشرتی امنو سکون کو نشانہ  بنا رہا ہے۔



متعللقہ خبریں