ترکی، تعلیمی وظائف کے ساتھ دلوں کے درمیان پُل تعمیر کرنا چاہتا ہے: عبداللہ ایرن

اب ترکی آپ کے دوسرے وطن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم ہمیشہ ترکی میں آپ کی میزبانی کے منتظر رہیں گے: عبداللہ ایرن

1463952
ترکی، تعلیمی وظائف کے ساتھ دلوں کے درمیان پُل تعمیر کرنا چاہتا ہے: عبداللہ ایرن
ytb mezuniyet.jpg
ytb mezuniyet.jpg

بیرونی ممالک میں مقیم ترکوں اور ترک کمیونٹیوں کے ادارے  YTB کے سربراہ عبداللہ ایرن  نے کہا ہے کہ ترکی کے جاری کردہ وظائف کے نتیجے میں ترک معاشروں کے درمیان ایک قلبی راستے کی تعمیر ہوئی ہے۔

YTB کی میزبانی میں انقرہ میں" 9 ویں بین الاقوامی طالبعلموں کی تقریبِ تقسیمِ اسناد " کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب سے خطاب میں YTB کے سربراہ عبداللہ ایرن نے کہا ہے کہ بین الاقوامی طالبعلموں کی تعلیم کے ہر شعبے میں YTB ان کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ" ترکی کی حیثیت سے ان وظائف  کے بدلے میں ہماری آپ سےکسی مادی بدلے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ اس بات میں آپ کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان وظائف کے ساتھ دلوں سے دلوں تک ایک راستے ایک تعلق کی تعمیر  مقصود ہے"۔

رواں سال میں فارغ التحصیل ہونے والے 2 ہزار 500 طالبعلموں اور دنیا کے مختلف ممالک  سے ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد ترکی سے فارغ التحصیل طالبعلموں سے خطاب میں ایرن نے کہا ہے کہ " سب سے پہلے ہم آپ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے کنبے، اپنے گرد وپیش اور اپنے ملک کے لئے مفید انسان بننے کی امید رکھتے ہیں۔ دوسرے  ترکی اور اپنے ملک کے باہمی تعلقات کے فروغ میں کردار ادا کرنے اور تیسرے گلوبل انصاف و عدالت کےلئے ترکی کی جدوجہد کے ساتھ  رضاکارانہ تعاون کرنےکی توقع رکھتے ہیں۔  آپ ترکی کی سماجی تاریخ کا حصہ بنے ہیں اور اب ترکی آپ کے دوسرے وطن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم ہمیشہ ترکی میں آپ کی میزبانی کے منتظر رہیں گے۔

عبداللہ ایرن نے رواں سال فارغ التحصیل ہونے والوں کو ، 30 کے لگ بھگ ممالک میں ایک لاکھ 50 سے زائد اراکین کی حامل  "ٹرکش گریجوایٹس سوسائٹی" میں بھی رجسٹر ہونے کا مشورہ دیا۔

خطاب کے بعد انہوں نے یونیورسٹیوں سے درجات کے ساتھ پاس ہونے والے 11 طالبعلموں میں انعامات تقسیم کئے۔

بعد ازاں تقریب میں شامل تمام طالبعلموں نے اپنی ٹوپیاں ہوا میں اچھالیں۔

تقریب، ٹرکش وظائف فنون لطیفہ سوسائٹی کے موسیقی کے پروگرام اور گالا ڈنر  کے بعد طالبعلموں کے کنبوں کی طرف سے بھیجے گئے ویڈیو پیغامات کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔



متعللقہ خبریں