امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان: روس۔شمالی کوریا سمجھوتہ ایشیاء اور یورپ کے استحکام کے لئے خطرہ ہے

روس اور شمالی کوریا کے درمیان عسکری سمجھوتہ نہ صرف سلامتی کونسل کے متعدد فیصلوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ شمال مشرقی ایشیاء اور یورپ کے استحکام کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے

2155315
امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان: روس۔شمالی کوریا سمجھوتہ ایشیاء اور یورپ کے استحکام کے لئے خطرہ ہے

جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان نے روس اور شمالی کوریا کے درمیان عسکری تعاون کی مذّمت کی ہے۔

امریکہ کے شمالی کوریا کے لئے نمائندہ خصوصی 'جُنگ پیک'، جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ اور امورِ حکمت عملی  و خبر رسانی کے بھی ذمہ دار 'چو کو۔رائے' اور جاپان کے ڈائریکٹر جنرل برائے امورِ ایشیاء  و اوقیانوس تعلقات 'نامازو ہیرویوکی' نے روس کے صدر ولادی میر پوتن کے 19 جون کے دورہ شمالی کوریا کے دوران فریقین کے مابین طے پانے والے فیصلوں سے متعلق مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان، روس اور شمالی کوریا کے درمیان گہرے ہوتے، عسکری تعاون کی پُرزور مذّمت کرتے ہیں۔ یہ تعاون، شمالی کوریا سے روس کی طرف جاری اسلحے کی ترسیل کا بھی احاطہ کرنے کی وجہ سے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعدد فیصلوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ سمجھوتہ شمال مشرقی ایشیاء اور یورپ کے استحکام کے لئے بھی خطرہ  بن گیا ہے"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ  پیانگ یانگ انتظامیہ اور ماسکو کے درمیان "جامع اسٹریٹجک شراکت داری سمجھوتہ" کوریا جزیرہ نما میں امن کے تحفظ کے خواہش مند فریقین کے لئے بھی سنجیدہ سطح پر باعثِ تشویش بن گیا ہے۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان، شمال کی طرف سے درپیش خطرے کے مقابل، ڈپلومیسی و سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائیں گے"۔

جنوبی کوریا صدارتی دفتر کے ترجمان لی ڈو۔وون نے بھی روس۔شمالی کوریا سمجھوتے کے بارے میں تحریری بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا، پیانگ یانگ اور ماسکو   کے درمیان  گہرے ہوتے فوجی تعاون کی وجہ سے گمبھیر ہوتے سکیورٹی اندیشوں کے مقابل چوکس رہنا ضروری ہے۔ کوریا جزیرہ نما کی سکیورٹی صورتحال نہایت مبہم ہو گئی ہے لہٰذا  ہمیں سکیورٹی  تیاری کو محکم رکھنا چاہیے"۔



متعللقہ خبریں