روس کی مذاکرات کی تجویز ذی فہم نہیں، اسٹولٹن برگ

یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے اتحادی یوکرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں

2153249
روس کی مذاکرات کی تجویز ذی فہم نہیں، اسٹولٹن برگ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینزا سٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی یوکرین کے ساتھ جنگ ​​بندی کی شرائط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ"یوکرین کو اپنی افواج کو اپنی سرزمین سے نہیں بلکہ روس کو مقبوضہ یوکرین کی سرزمین سے اپنی فوجوں کا انخلا کرنے کی ضرورت ہے۔"

اسٹولٹن برگ نے یہ بیان بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد دیا۔

پوٹن کے ان بیانات  کہ" اگر یوکرین دونیٹسک، لوہانسک،خیرسون اور زاپوریزیا سے اپنی فوجیں واپس بلا لے اور نیٹو میں شامل ہونے کی خواہش سے باز آ جائے تو کیف کے ساتھ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں"  کے جواب میں اسٹولٹن برگ نے کہا کہ یہ "نیک نیتی پر مبنی پیشکش نہیں  ہے۔"

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ مذکورہ شرائط کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین "اس سے زیادہ زمین چھوڑ دے جتنا کہ روس کبھی بھی قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا"یہ امن کی تجویز نہیں ہے۔ یہ مزید جارحیت اور مزید قبضے کی تجویز ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"یہ ایک طرح سے ظاہر کرتا ہے کہ روس کا مقصد یوکرین کو کنٹرول کرنا ہے، جو کہ  اس جنگ کے آغاز سے ہی روس کا مقصد رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے اتحادی یوکرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔"



متعللقہ خبریں