روس: صدر پوتن مذاکرات پر تیار ہیں لیکن یوکرین سے فوجی انخلاء پر تیار نہیں

اسپیشل فوجی آپریشن جاری ہے تاہم اپنے مفادات تک رسائی کے لئے ہم جس راستے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں وہ پُر امن سفارتی راستہ ہے: دمتری پیسکوف

1914024
روس: صدر پوتن مذاکرات پر تیار ہیں لیکن یوکرین سے فوجی انخلاء پر تیار نہیں

روس صدارتی پیلس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ صدر پوتن، امریکہ کے صدر جو بائڈن کے ساتھ، مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن روسی فوجوں کو یوکرین سے نکالنے پر تیار نہیں ہیں۔

دمتری پیسکوف نے اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں صدر بائڈن کی،  صدر پوتن کے ساتھ ملاقات کے لئے، یوکرین سے فوجی انخلاء کی شرط کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ روس اپنی فوجوں کو یوکرین سے نکالنے پر تیار نہیں ہے۔ اسپیشل فوجی آپریشن جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پوتن نے ملاقاتوں اور مذاکرات کا راستہ کھُلا رکھا ہے اور کھُلا رکھیں گے۔ اپنے مفادات تک رسائی کے لئے ہم جس راستے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں وہ پُر امن سفارتی راستہ ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے روس کے الحاق کردہ علاقوں کو تاحال تسلیم نہیں کیا اور اس چیز  نے دو طرفہ بحث و مباحثے کے راستے کو دشوار بنا دیا ہے ۔تاہم صدر پوتن ملکی مفاد کی خاطر مذاکرات کے لئے ہمیشہ تیار ہیں۔ یہاں تک کہ صدر پوتن نے یوکرین جنگ سے قبل بھی، امریکہ، نیٹو، یورپی سلامتی و تعاون تنظیم OSCE کے اشتراک سے تیار کئے گئے خاکہ بِل کی بنیاد پر، مذاکرات شروع کروانے کی کوشش کی لیکن  اس کوشش کے ساتھ کوئی رغبت ظاہر نہیں کی گئی۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور شامی انتظامیہ کے سربراہ بشار الاسد  کے درمیان مذاکرات کے احتمال سے متعلق سوال کے جواب میں پیسکوف نے کہا ہے کہ تاحال کوئی حتمی چیز نہیں ہوئی تاہم اس کا امکان موجود ہے۔ اگر ایسی کوئی ملاقات ہوتی ہے تو روس اس کا خیر مقدم کرے گا ۔

صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس، ترکیہ اور شام کے درمیان ملاقات میں کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔



متعللقہ خبریں