روس: امریکہ، دریائے فرات کی مشرقی زمینوں کو شامی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں جانے دے رہا

ہمارے خیال میں انقرہ اور دمشق کے درمیان روابط کا قیام سرحدی علاقے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنائے گا: ماریہ زاہرووا

1913302
روس: امریکہ، دریائے فرات کی مشرقی زمینوں کو شامی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں جانے دے رہا

روس نے کہا ہے کہ امریکہ ،دریائے فرات کی مشرقی زمینوں کو شامی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں جانے دے رہا۔

روس وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاہرووا نے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مسئلہ شام کے بارے میں بیانات جاری کئے ہیں۔

اناطولیہ خبر رساں ایجنسی  کے رپورٹر کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا روس شام کے شمالی حصے سے نکلنے کے لئے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG پر دباو ڈال رہا ہے یا نہیں؟ زاہرووا نے ترکیہ کے، شام میں، برّی آپریشن پلان سے متعلق جاری کردہ بیان کی یاد دہانی کروائی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اس موضوع پر ہم، ترکیہ اور شامی فریقوں کے ساتھ، بھاری روابط جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں ایسے اقدامات مذکورہ علاقے کی پہلے سے گھمبیر صورتحال کو مزید خراب کر دیں گے اور علاقے کے عمومی حالات  پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔ ہمارے خیال میں انقرہ اور دمشق کے درمیان روابط کا قیام سرحدی علاقے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنائے گا۔ اس معاملے میں وسیع پیمانے پر تناو کے سدّباب کے لئے متعلقہ اداروں  کے درمیان روابط جاری ہیں"۔

ترجمان ماریہ زاہرووا نے کہا ہے کہ " ہم نے ،شام میں دریائے فرات کی مشرقی زمینوں پر انتظامیہ کے کنٹرول  کے لئے ، علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG اور شامی انتظامیہ کے درمیان ڈائیلاگ شروع کروانے کی کوشش کی ہے لیکن علاقے میں ا مریکہ کی غیر قانونی موجودگی  اس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے"۔

انہوں نے شام کے شمال میں امریکہ کے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے ساتھ تعاون کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ " امریکی، مذکورہ زمینوں کو دمشق کے کنٹرول سے باہر رکھنے کی  پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ زمینیں پیٹرول اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہیں"۔



متعللقہ خبریں