ترکیہ اور یونان "ایجین جزائر" کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے بات چیت جاری رکھیں، اقوام متحدہ

ہ اقوام متحدہ نے رکن ممالک کے خودمختار حقوق اور سمندری علاقوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے مسئلہ کی قانونی جہت پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا

1887173
ترکیہ اور یونان "ایجین جزائر" کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے بات چیت جاری رکھیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے یونان اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ "ایجین جزائر" کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے بات چیت جاری رکھیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارچ نے اپنی یومیہ  پریس بریفنگ میں انادولو ایجنسی کے رپورٹر کے سوال کہ  یونان بین الاقوامی معاہدوں کے باوجود ایجین کے کچھ جزائر پر فوجی سامان جمع کر رہا  ہےکا جواب دیتے ہوئے کہا کہ"ہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایتھنز اور انقرہ دونوں کے بیانات سے آگاہ ہیں۔ ایسے اقدامات اور اظہار سے گریز کرنا ضروری ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل (انتونیو گوٹیرس) نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام کے پرامن حل کو تنازعات کو ختم کرنے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے یونان اور ترکی کے درمیان ڈائیلاگ   اور دو طرفہ بات چیت کے تسلسل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔"

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ نے رکن ممالک کے خودمختار حقوق اور سمندری علاقوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے مسئلہ کی قانونی جہت پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا اور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب یونان میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت سیریزا کے رہنما الیکسسز چپراس نے امریکی اڈوں کے حوالے سے وزیراعظم کریاکوس میتو تاکیس انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

چیپراس نے تنقید کی کہ اڈوں پر یونان نے ریاستہائے متحدہ امریکہ  سے غیر معینہ مدت کے لئے معاہدہ کیا ہے لیکن اس کے بدلے میں اسے کوئی ضمانت نہیں ملی۔

 



متعللقہ خبریں