روس کے الحاق پر عالمی سطح پر رد عمل کا مظاہرہ

"ہم روس کی جانب سے بہانہ بنائے گئے  غیر قانونی استصواب رائے کے جعلی اور غیر قانونی نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی تسلیم کریں  گے۔"

1887120
روس کے الحاق پر عالمی سطح پر رد عمل کا مظاہرہ

روسی صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے یوکرین کے دونیٹسک، لوہانسک،خیرسون اور زاپوریا علاقوں کو روس سے الحاق کرنے کے معاہدوں  پر عالمی سطح پر  ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل یننز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ رکن ممالک روس کے 4 خطوں کے الحاق کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

متحدہ امریکہ نے روس کی طرف سے الحاق کے اعلان کی مذمت کی اور روسی مرکزی بینک کی  گورنر  ایلویرا نبیولینا سمیت سینکڑوں افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی برادری سے روس کے غیر قانونی الحاق کے اقدامات کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ"میں کانگریس کے اس قانون پر دستخط کرنے کا منتظر ہوں جو یوکرین کی مدد کے لیے اضافی 12 بلین ڈالر فراہم کرے گا۔"

یورپی یونین  ممالک کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ مشرقی یوکرین کے علاقوں پر روس کے غیر قانونی الحاق کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس عمل کی  مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم روس کی جانب سے بہانہ بنائے گئے  غیر قانونی استصواب رائے کے جعلی اور غیر قانونی نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی تسلیم کریں  گے۔"

یورپی کمیشن کی صدر وون ڈیر لیین نے اپنے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام  میں روس کو ایک قابض ملک قرار دیا اور یہ کہہ کر اپنے ردعمل کا اظہار کیا کہ "تمام غیر قانونی طور پر الحاق شدہ علاقے یوکرین کا حصہ ہیں۔"

یوکرین میں ریفرنڈم کے بعد چین نے بحران کے حل کے لیے بات چیت پر زور دیا اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ارکان کے ساتھ تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا۔

مغربی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیے گئے ’مذمت بل‘ کو روس نے ویٹو کر دیا۔



متعللقہ خبریں