سابق جاپانی وزیر اعظم کے قتل کی تحقیقات جاری

یاماگامی نے دعوی کیا ہے کہ اس نے یہ حملہ ایک "مخصوص تنظیم" کے خلاف رنجش کی وجہ سے کیا  اور اس کا خیال تھا کہ آبے کا تعلق اس تنظیم سے ہے

1854003
سابق جاپانی وزیر اعظم کے قتل کی تحقیقات جاری

جاپان کی نیشنل پولیس سروس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات شروع کرے گی کہ آیا جاپان کے سابق وزیر اعظم آبے شنزو کو ہلاک کرنے والی فائرنگ میں ’سیکیورٹی فقدان‘ تھا۔

جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق این پی اے نے بتایا کہ نارا شہر کی پولیس نے آبے شنزو کے شہر میں رہتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے  کے لیے منصوبہ بندی  کی گئی تھی۔

این پی اے نے بتایا کہ جب آبے تقریر کر رہے تھے اس وقت نارا پولیس اور ٹوکیو میٹروپولیٹن پولیس ڈیوٹی پر تھیں۔

آبے کی حفاظت کرنے والے پولیس اور مسلح سیکیورٹی اہلکار اس حملے کو کیسے روک نہیں سکے، اس کی نشاندہی کرتے ہوئے، NPA نے کہا کہ آبے سے متعلق حفاظتی ضوابط کا جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب حملے کے مرتکب  یاماگامی ٹیٹسویانے دعویٰ کیا کہ اس نے آبے کو اس لیے مارا کہ اس کا خیال تھا کہ اس کا تعلق اس گروپ سے ہے جس کے خلاف اس کی رنجش تھی۔

جاپان کے سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یاماگامی،جسے  پولیس نے کارروائی کے فوراً بعد حراست میں لے لیا، نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کی کارروائی آبے کے سیاسی خیالات کے خلاف  ردعمل سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

یاماگامی نے دعوی کیا ہے کہ اس نے یہ حملہ ایک "مخصوص تنظیم" کے خلاف رنجش کی وجہ سے کیا  اور اس کا خیال تھا کہ آبے کا تعلق اس تنظیم سے ہے۔

دوسری جانب کچھ جاپانی خبر رساں ذرائع نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ یاماگامی نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا ہدف ایک مذہبی گروہ کی اعلیٰ شخصیت تھی۔



متعللقہ خبریں