امریکہ اور نیٹو نے روس کو تحریری جواب دے دیا

جواب میں ہم نے روس کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ اب یہ روس پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ ہم ہر دو صورتحال کے لئے تیار ہیں: وزیر خارجہ انتھونی بلنکن

1769146
امریکہ اور نیٹو نے روس کو تحریری جواب دے دیا

روس۔ یوکرائن کشیدگی میں ڈپلومیٹک حل کی کوششیں آخری مراحل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

روس نے گذشتہ ماہ پیش کردہ سکیورٹی تجاویز کے بارے میں امریکہ کا تحریری جواب موصول ہونے کا اعلان کیا ہے۔

روس وزارت خارجہ کے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق ماسکو میں امریکہ کے سفیر جان سلیوان روس وزارت خارجہ گئے، روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گرشکو کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں روس کی سکیورٹی تجاویز کے بارے میں امریکہ کا تحریری جواب پیش کیا۔

امریکی فریق نے اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈائیلاگ کے لئے تیار ہیں۔ تحریری جواب کے متن کا اعلان نہیں کیا جائے گا اور ہم روسی فریق کی طرف سے بھی اسی روّیے کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ "جواب میں ہم نے روس کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ اب یہ روس پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ ہم ہر دو صورتحال کے لئے تیار ہیں، روس کے یوکرائن پر حملے کی صورت میں ہم، گلوبل توانائی بحران پیدا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نے روس کی یوکرائن کو نیٹو میں شامل نہ کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی ہے"۔

دوسری طرف نیٹو کے سیکرٹری جنرل ہینز اسٹالٹن برگ نے بھی روس کی طرف سے، سکیورٹی ضمانتوں سے متعلقہ، معاہدے کی تجویز کا تحریری جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ "نیٹو نے امریکہ کے ساتھ متوازی شکل میں روس کو تحریری تجاویز بھیج دی ہیں"۔

انہوں نے روس سے دیگر ممالک کے خلاف زور زبردستی کے استعمال سے پرہیز کرنے کی اپیل کی اور کہا ہے کہ ہم ایک حقیقی ڈائیلاگ کے لئے تیار ہیں۔

یوکرائن کی نیٹو رکنیت کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ نیٹو 'کھُلا دروازہ' پالیسی کو جاری رکھے گا۔ یوکرائن پر حملہ کرنے کی صورت میں روس کو اس کا بھاری بدل چُکانا پڑے گا۔

واضح رہے کہ روس کی طرف سے ماہِ دسمبر میں نیٹو اور امریکہ کو بھیجی گئی سکیورٹی ضمانتوں کے معاہدے کی تجاویز میں مطالبہ کیا تھا کہ نیٹو یقین دہانی کروائے کہ اپنے دائرے میں توسیع نہیں کرے گا،امریکہ سابقہ سوویت یونین ممالک میں اور نیٹو رکنیت نہ رکھنے والے ممالک میں فوجی بیس قائم نہ کرے، نہ تو کسی فوجی کاروائی کے لئے ان ممالک کے انفراسٹرکچر کو استعمال کرے اور نہ ہی ان ممالک کے ساتھ فوجی تعاون کرے۔



متعللقہ خبریں