دنیا بھر سے ماکرون کے خلاف سخت ردعمل

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی آزادی اظہار کی حدود سے باہر ہے: ملائیشیا

1517360
دنیا بھر سے ماکرون کے خلاف سخت ردعمل

ملائیشیا نے اسلام مخالف روّیے اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ کارٹونوں کا دفاع کرنے پر فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون پر تنقید کی ہے۔

ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ حشام الدین حسین نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے رجحان میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اس معاملے میں  امانوئیل ماکرون کی پالیسیاں سرفہرست ہیں۔

بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ملائیشیا دیگر انسانوں کی حق تلفی سے پاک اظہارِ بیان کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

وزیر خارجہ حشام نے کہا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی آزادی اظہار کی حدود سے باہر ہے۔

انہوں نےکہا ہے کہ " اس نوعیت کی حرکتیں اسلام اور دنیا بھر میں کئی ملین مسلمانوں کے خلاف کھُلی اشتعال انگیزی  ہے"۔

انڈونیشیا نے بھی ماکرون کے اسلام کے خلاف گستاخانہ بیانات کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان تیوکو فائزاسیا نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جکارتہ میں فرانس کے سفیر اولیوئیر چیمبرڈ کو وزارت خارجہ میں بُلاکر  ماکرون کے اسلام مخالف بیانات کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

فائزاسیا نے کہا ہے کہ سفیر کے ساتھ ملاقات میں ماکرون کے اسلام  کے خلاف گستاخانہ بیانات کی مذمت کی  گئی ہے۔

انڈونیشیا کے نائب صدر معروف امین کے ترجمان مصدوقی نے بھی کہا ہے کہ ہمیں ماکرون کے بیانات پر سخت افسوس ہے اور ہمیں اسلامو فوبیا پر مبنی اس رجحان کے دوام کے بارے میں تشویش کا سامنا ہے۔

جماعت نہدۃ العلماء نے بھی ماکرون کے اسلام دشمن روّیوں کے مقابل مسلمانوں کے اشتعال انگیزی سے پرہیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور حکومت کےاس صورتحال کے حل کے لئے فعال ڈپلومیٹک اقدامات کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

صومالیہ کے علماء وفد نے بھی ماکرون کے بیانات اور بعض فرانسیسی حکام کے اسلام مخالف اقدامات پر تنقید کی ہے اور فرانسیسی مال کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔



متعللقہ خبریں