ہمیں یمن میں اعلانِ خود مختاری پر تشویش ہے: پومپیو

امریکہ کو اعلانِ خودمختاری سمیت مجلس انتقالی الجنوبی کے حالیہ اقدامات پر اندیشوں کا سامنا ہے: وزیر خارجہ مائیک پومپیو

1407496
ہمیں یمن میں اعلانِ خود مختاری پر تشویش ہے: پومپیو

امریکہ نے یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت کی حامل مجلس انتقالی الجنوبی کی طرف سے نام نہاد اعلانِ خودمختاری اور ہنگامی حالات کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یمن کی حالیہ صورتحال کے بارے میں تحریری بیان جاری کیا ہے۔

پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو اعلانِ خودمختاری سمیت مجلس انتقالی الجنوبی کے حالیہ اقدامات پر اندیشوں کا سامنا ہے۔ اس نوعیت کے یک طرفہ اقدامات یمن میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

پومپیو نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں اور مشرق وسطی میں بھی کورونا وائرس کے خطرے کا سامنا ہے ایسے حالات میں مجلس انتقالی الجنوبی کی طرف سے اٹھایا گیا قدم ملکی صورتحال پر مزید منفی اثرات مرتب کرے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم مجلس انتقالی الجنوبی اور یمن حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ریاض سمجھوتے کے پلیٹ فورم سے سیاسی عمل کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

واضح رہے کہ مجلس انتقالی الجنوبی نے 26 اپریل کو یمن کے جنوب میں اعلانِ خود مختاری کیا تھا۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 5 نومبر 2019 کو یمن حکومت اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ مجلس انتقالی الجنوبی کے درمیان " حکومت کی عدن واپسی، سیاسی حکومت کے قیام، تمام فوجی اداروں کی دفاع اور وزارت داخلہ کے ساتھ وابستگی اور طرفین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے " جیسی شقوں کا حامل سمجھوتہ طے پایا تھا۔ تاہم سمجھوتے کی خاص طور پر سکیورٹی شقوں کا اطلاق نہیں ہو سکا تھا۔

ریاض سمجھوتے کے اطلاق کے لئے یمن حکومت اور مجلس انتقالی الجنوبی کے درمیان 20 اپریل کو ایک نیا سمجھوتہ طے پایا تھا۔



متعللقہ خبریں